.

شام: النصرہ فرنٹ نے پادری سمیت 21 مسیحی رہا کر دیے

مسیحیوں کو ترک سرحد کے قریب ایک گاوں سے اغواء کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں سرگرم انتہا پسند اسلامی گروپ النصرہ فرنٹ نے یرغمال بنائے گئے ایک پادری اور 20 دوسرے مسیحیوں کو رہا کر دیا ہے۔ مسیحی گروپ کے ترجمان فرانسسکین آرڈر کے مطابق پادری اور دوسرے مسیحیوں کو جمعرات کے روز رہا کیا گیا ہے۔ تاہم ترجمان نے اس بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے۔

النصرہ فرنٹ کو شام میں القاعدہ کی شاخ سمجھا جاتا ہے۔ عسکری گروپ نے مسیحی پادری اور ساتھیوں کو اتوار کے روز ترکی کی سرحد کے نزدیک شمال مغربی گاوں قونے سے اغواء کیا تھا ۔

ایک مقامی مسیحی کارکن نے بتایا ہے کہ النصرہ فرنٹ اس گاوں میں مسیحی املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہے۔

واضح رہے النصرہ فرنٹ نے علاقے کے متعدد مسیحی اور غیر مسیحی دیہات پر قبضہ کر رکھا ہے، اس علاقے میں مسیحی پچھلے 125 سال سے تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

شام میں عام شہریوں کو اکثر تاوان کے لیے اغواء کر لیا جاتا ہے۔ النصرہ فرنٹ اور داعش کے انتہا پسندوں نے متعدد غیر ملکی صحافیوں کو بھی یرغمال بنایا ہے۔ النصرہ کے عسکریت پسندوں نے فجی کے چالیس فوجیوں کو ماہ اگست میں اغواء کر لیا تھا۔ یہ فوجی گولان کی پہاڑیوں پر اقوام متحدہ کے امن کارکنوں کی صورت موجود تھے۔ تاہم انہیں دو ہفتے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔