.

غزہ کے لیے عالمی ڈونرکانفرنس میں 50 ممالک کی شرکت متوقع

ڈونرز کانفرنس اتوار کو مصر کی میزبانی میں ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ میں‌ اسرائیلی جارحیت کے بعد متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور بحالی کے حوالے سے عالمی ڈونرز کانفرنس پرسوں اتوار کو مصر اور ناروے کی مشترکہ میزبانی میں قاہرہ میں منعقد ہو رہی ہے۔ کانفرنس میں 50 ممالک کے مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔ مصری صدر عبدالفتاح السیسی، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ناروے کے وزیرخارجہ کانفرنس سے افتتاحی خطاب کریں ‌گے۔

مصر کے ایک سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس بھی افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتے کوقاہرہ پہنچیں‌ گے۔ سفارتی ذرائع نے غزہ ڈونرز کانفرنس کو نہایت اہمیت کی حامل قرار دیتے ہوئے جنگ سے تباہ حال علاقوں کی تعمیر نو کے سلسلے میں‌ اسے اب تک کی سب سے بڑی کوشش قرار دیا۔

سفارت کار نے بتایا کہ یہ کانفرنس اس اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اس کی تیاری اورمیزبانی میں ناروے بھی مصرکے ساتھ بہ طور معاون شامل ہے۔ کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں ناروے کے وزیرخارجہ بورگ برندہ بھی خطاب کریں ‌گے۔

افتتاحی سیشن کے بعد کانفرنس سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، امریکی وزیرخارجہ جان کیری، یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین آشٹن اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی خطاب کریں‌ گے۔ اس کےعلاوہ ڈونرز کانفرنس میں فلسطینی وزیر خزانہ اور نائب وزیراعظم محمد مصطفیٰ، فرانس، برطانیہ، اردن، جاپان کے وزرائے خارجہ اور امریکا، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ پر مشتمل گروپ چار کے سربراہ ٹونی بلیئر بھی شرکت کریں ‌گے۔

سفارتی ذرائع نے بتایا کہ مجموعی طور پر ڈونرز کانفرنس میں 50 ملکوں کے سرکاری وفود اور 20 علاقائی اورعالمی تنظیموں کے مندوبین شریک ہوں‌گے۔ صبح سے شام تک جاری رہنے والے اجلاس میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کےحوالے سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی اور کانفرنس کے آخر میں ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے عالمی برادری سے مدد کی درخواست کی جائے گی۔

کانفرنس میں غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں‌گی۔ اعلامیے کے بعد مصر اور ناروے کے وزیرخارجہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کریں‌ گے جس میں‌ ڈونرز کانفرنس میں ‌ہونے والے اعلانات کی تفصیلات بتائی جائیں‌گی۔

مصری سفارتی ذرائع سے پوچھا گیا کہ آیا اجلاس میں قطر اور ترکی جیسے حماس نوازممالک کے مندوبین بھیی شرکت کریں گے تو اس کا کہنا تھا کہ ان ملکوں کو بھی دعوت دی گئی ہے۔ قطری وزیرخارجہ خالد العطیہ خصوصی طور پر اس کانفرنس میں‌ شریک ہوں گے تاہم اسرائیل کو شرکت کی دعوت نہیں‌دی گئی۔ کانفرنس کی کوریج کے لیے 400 مقامی اور غیرملکی صحافیوں کو شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔