.

القاعدہ نے صنعاء دھماکوں کے خودکش بمبار کا نام جاری کر دیا

دھماکوں کا منظر خفیہ کیمرے میں محفوظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم القاعدہ نے دو روز قبل یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ہوئے خود کش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد خود کش بمبار کا نام بھی منکشف کر دیا ہے۔ صنعاء میں حوثی مظاہرین کے دھرنے میں ہونے والے دھماکوں میں کم سے کم 60 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

شدت پسندوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائیٹ"سائیٹ" نے بتایا ہے کہ "اخبار انصار الشریعہ" نامی ایک ویب سائیٹ کے ذریعے القاعدہ نے صنعاء دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بعد ازاں القاعدہ کی جانب سے جاری خبر مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹیوٹر" نے بھی نقل کی تھی۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق "اخبار انصار الشریعہ" نامی ویب سائیٹ یمن کے القاعدہ ونگ کے زیراستعمال ہے۔ رپورٹ میں خود کش حملہ آور کا نام ابو معاویہ الصنعانی بتایا گیا ہے جس نے مبینہ طور پر صنعاء کے تحریر اسکوائر میں اس وقت خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا جب اہل تشیع مسلک کے حوثی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی تیاری کر رہے تھے۔ یمنی القاعدہ کی جانب سے 21 ستمبر کو جاری ہوئے ایک بیان میں بھی صنعاء کی سرکاری بیرکوں پر قابض حوثیوں پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ دو روز پیشتر ہونے والے دھماکوں کا منظر کچھ ہی فاصلے پر لگے ایک سی سی ٹی وی کیمرے میں بھی محفوظ ہو گیا تھا۔

خبررساں ایجنسی"رائیٹرز" نے صنعاء کے تحریر اسکوائر میں حوثیوں کے مجمع میں خود کو دھماکے سےاڑانے والے بمبار کی خفیہ کیمرے میں محفوظ ہونے والی ویڈیو فوٹیج نشر کی ہے۔ ویڈیو فوٹیج سے معلوم ہو رہا ہے کہ یہ دھماکہ یمن کے ڈویلپمنٹ بنک کے سامنے چند گز کے فاصلے پر ہوا، جس میں ایک شخص نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ فوٹیج سے دھماکے کی شدت کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ القاعدہ کا یمن میں حوثی شدت پسندوں کے کسی جلوس پر یہ پہلا حملہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ان کے جلسوں میں ایسے ہی دھماکے ہوتے رہے ہیں۔ چند ہفتے قبل شمالی یمن کے ضلع عمران اور جنوبی علاقے شبوۃ میں بھی حوثیوں کی ریلیوں میں دھماکے کیے گئے تھے۔ القاعدہ نے ان حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

یمن پچھلے کئی سال سے القاعدہ کی سرگرمیوں اور حملوں کا مرکز رہا ہے۔ یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی بدانتظامی اور "بیڈ گورننس" کی وجہ سے یمن القاعدہ کا مرکز بنا۔ امریکا بھی یہ دعویٰ کرتا آ رہا ہے کہ یمن جزیرۃ العرب میں القاعدہ کے شدت پسندوں کا گڑھ بن چکا ہے۔