.

بحران کے حل کے لیے تمام فریقین لچک کا مظاہرہ کریں: یمنی صدر

امریکا، برطانیہ کا یمن میں خانہ جنگی پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدرعبد ربہ منصور ھادی نے ملک کی تمام نمائندہ سیاسی قوتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملکی استحکام اور خانہ جنگی سے بچانے کی خاطر اپنے موقف اور مطالبات میں لچک کا مظاہرہ کریں تاکہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جا سکے۔

دوسری جانب ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ محاذ تشکیل دے۔ نیز قومی مفاہمتی معاہدے کے تحت طے پائے تمام نکات اور انتقال اقتدار کے فارمولے پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائے۔

یمن میں سیاسی شراکت داری کے حالیہ معاہدے میں شامل تمام جماعتوں اور قبائل کی جانب سے ایک مشترکہ بیان سامنے آیا ہے جس میں‌ انہوں نے صدر عبد ربہ منصور ھادی سے کہا ہے کہ وہ جنرل نیشنل کانگریس کے فیصلوں کوعملی شکل دینے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے تاکہ ملک کو موجودی سیاسی بحران سے نکالا جا سکے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صدر عبد ربہ منصورھادی نے اپنے ایک بیان میں‌ کہا ہے کہ سیاسی بحران کے حل کے لیے تمام سیاسی دھڑوں کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب صنعاء اور خضر موت میں دو روز قبل ہونے والے بم دھماکوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یمنی صدر کی جانب سے تمام فریقین سے درمیانہ راستہ اختیار کرنے اور لچک کا مظاہرہ کرنے کا یہ مطالبہ پہلی مرتبہ سامنے نہیں آیا بلکہ وہ اس سے قبل بھی سیاسی دھڑوں اور قبائل سے اس نوعیت کے مطالبات کر چکے ہیں۔ چند روز قبل قومی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے منعقدہ ایک گرینڈ جرگے سے خطاب میں بھی صدر ھادی کی جانب سے تمام سیاسی قوتوں سے یہی مطالبہ اٹھایا گیا تھا۔

صدر ھادی نے صنعاء اور خضرموت میں ہونے والی بم دھماکوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ان کی شفاف تحقیقات کرانے اور مجرموں کو جلد پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں‌ نے کہا کہ حوثی قبیلے کے دھرنوں میں‌ ہونے والے دھماکے بد ترین دہشت گردی ہے۔ انہوں‌ نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری سے بھی مدد کی اپیل کی۔

یمن میں دو روز قبل حوثی مظاہرین کے جلوسوں میں ہونے والے دو بم دھماکوں کی امریکا کی جانب سے بھی مذمت کی گئی ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے ایک بیان میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یمن میں حالات کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک ایک نئی خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ برطانوی حکومت نے بھی یمن میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے صنعاٰء کی ہرممکن مدد کا یقین دلایا ہے اور کہا ہے کہ پرامن انتقال اقتدار ہی یمن کو بحران سے نکال سکتا ہے۔

خیال رہے کہ یمن ان دنوں بدترین سیاسی اور سیکیورٹی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک جانب اہل تشیع مسلک کے حوثی شدت پسندوں کی جانب سے پرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور دوسری جانب صدر ھادی نئی کابینہ کی تشکیل میں بھی ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مقرر کردہ نئے وزیراعظم احمد عوض بن مبارک نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے جس کے بعد سیاسی عمل مزید تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

حوثیوں کے دھرنے اور اہم سرکاری عمارتوں پر ان کے قبضے نے صورت حال مزید بگاڑ دی ہے۔ مذاکرات اور معاہدوں کے باوجود حوثی دارالحکومت کا قبضہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔