.

دنیا داعش کے خلاف طاقت کا استعمال بڑھائے: یورپی یونین

کیتھرائن آشٹن کا ترکی میں کردوں کی ہلاکتوں پر تشویش اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی کرد جنگجو سرحدی قصبے کوبانی پر اپنا قبضہ جاری رکھنے کے لیے ہفتے کے روز بھی داعش کے خلاف سخت ترین مزاحمت کر رہے ہیں۔ داعش کے حوالے سے پہلے یہ خبریں آ چکی ہیں کہ اس نے کوبانی میں کرد جنگجووں کے عسکری ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس صورت حال میں یورپی یونین نے اسلامی انتہا پسند داعش کو بھرپور طاقت سے پیچھے دھکیلنے کی اپیل کی ہے۔ کرد جنگجووں کے ذمہ دارعصمت شیخ حسن کا کہنا ہے ''داعش اور کردوں کے درمیان لڑائی کوبانی کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں جاری ہے۔ ''

دوسری جانب لندن میں قائم آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کے مطابق ''ہفتے کی صبح کرد جنگجووں نے داعش کے عسکریت پسندوں کی ایک یلغار کوبانی کے وسط میں پسپا کر دی ہے۔ ''

واضح رہے اس اہم سرحدی قصبے پر قبضے کے لیے داعش کی لڑائی چوتھے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے اور تقریبا ایک ہفتے سے داعش قصبے پر کبھی مشرق سے اور کبھی مغرب سے حملے کر رہی ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق '' داعش کی تازہ یلغار نوے منٹ پر محیط تھی جس کے بعد زبردست لڑائی ہوئی ہے، اس موقع پر ہونے والی مزاحمت سے داعش کے عسکریت پسندوں کو پیچھے جانا پڑا ہے۔''

خطرناک صورت حال کے پیش نظر یورپی یونین نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ داعش کے خلاف زیادہ موثر کردار ادا کرے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرائن آشٹن کی طرف سے سامنے آنے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ '' ہمیں کوبانی اور کردوں کی طرف سے خود مختار قرار دیے گئے علاقے میں پیدا شدہ صورت حال پر انسانی حوالے سے گہری تشویش ہے۔''

یورپی یونین کی ذمہ دار کا یہ بیان کردوں کی طرف سے اپنی مدد کے لیے کیے گئے احتجاجی مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے۔ بیان میں کردوں کی ترکی میں مظاہروں کے دوران ہونے والی حالیہ ہلاکتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، نیز کردوں کی ہنگامی اور اضافی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔

کوبانی میں داعش کی وجہ سے پیدا شدہ صورت حال کے بارے میں اقوام متحدہ کا نمائندہ ایک روز قبل کوبانی میں قتل عام کے خطرے کا انتباہ کر چکا ہے۔

واضح رہے شام کے سرحدی قصبے کوبانی سے تقریبا دو لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ سات سو بوڑھے افراد سمیت بارہ ہزار کرد ابھی قصبے کے اندر بتائے جاتے ہیں۔ تاہم کرد جنگجووں کے بارے میں نہیں بتایا گیا کہ ان کی تعداد کیا ہے اور وہ ان بارہ ہزار میں شامل ہیں یا نہیں۔

داعش نے قصبے کو سوائے ایک تنگ راستے کے عملا تمام اطراف محاصرے میں لے رکھا ہے۔ اب تک کی لڑائی میں 500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترکی اس قصبے میں انسانی بنیادوں پر امداد دینے سے گریزاں ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ داعش اور کردوں کو یکساں طور پر عسکریت پسند اور امن دشمن سمجھتا ہے،تاہم یورپی یونین اور امریکا کردوں کی مدد کے لیے کمر بستہ ہیں۔