.

غزہ ڈونرز کانفرنس، امریکا امن مذاکرات پر اصرار کرے گا

جان کیری فلسطین کی نئی سفارتی حکمت عملی پر بھی بات کرینگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری از سر نو اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کا عمل شروع کرنے پر زور دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی سفارتی حکام کے مطابق وہ اس امر کا اظہار غزہ کی اسرائیل کے ہاتھوں حالیہ تباہی کے بعد بحالی کے لیے قاہرہ میں بلائی گئی ڈونرزکانفرنس کے موقع پر اتوار کے روز کریں گے۔

قاہرہ میں شروع ہونے والی اس ڈونرز کانفرنس میں جان کیری اور ان کے دیگر 30 ہم منصب رہنماوں کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے انروا کے ایک تخمینے کے مطابق پچاس دن تک اسرائیلی جنگی طیاروں اور تباہ کن اقدامات سے غزہ میں ہونے والے انفراسٹکچر کو نئے سرے سے اٹھانے اور جنگ کے متاثرہ فلسطینی عوام کی زندگی کو معمول پر لانے کے لیے کم از کم ایک ارب ساٹھ کروڑ یورو کی ضرورت ہو گی۔

اقوام متحدہ ڈونرز کانفرنس کے شرکاء سے فلسطینی عوام کے لیے اب تک سب سے بڑی امدادی رقم کا مطالبہ کرنے جا رہی ہے۔ اس مقصد لیے انروا کے اعلی حکام کے علاوہ سیکرٹری جنرل بھی بطور خاص قاہرہ پہنچنے والے ہیں۔

واضح رہے 8 جولائی سے شروع کردہ پچاس روزہ اسرائیلی جنگ میں 2200 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جبکہ لاکھوں بے گھر ہو گئے تھے۔

جان کیری قاہرہ آمد کے موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس سے کانفرنس کی سائیڈ لائنز میں ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دونوں کی اس سے پہلے ماہ ستمبر میں جنرل اسملی کے اجلاس کے موقع پر بھی ایک ملاقات ہوئی تھی۔

امریکی سفارتی حکام کے مطابق جان کیری مشرق وسطی کے اہم ترین تنازعہ طے کرنے کے لیے دو ریاستی حل پر زور دیں گے، نیز وہ موجودہ رہنماوں کو ایک مرتبہ پھر امن مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ''

امریکی حکام نے اس بارے میں شبہ ظاہر کیا کہ فلسطینیون کی طرف سے چار ارب ڈالر کی درخواست پوری طرح منظور ہو جائے گی، امریکی حکام کے مطابق '' اس کا انحصار ڈونرز کی سخاوت پر ہے۔''

ان امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ موقع پر ہی ڈونرز چار ارب ڈالر کی خطیر رقم دینے کا وعدہ کرلیں گے اور کیا ایسا کرنا فوری طور پر ضروری بھی ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے حکام نے کہا وہ اس کوشش میں ہیں کہ اسرائیل کو غزہ کی تعمیر نو کے لیے ضروری سہولتیں دینے پر تیار کریں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی جنگ سے تباہ ہونے والی غزہ کی پٹی کا اسرائیل نے پچھلے کئی برسوں سے محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ مصر کی طرف کھلنے والی رفح راہداری کو مصر نے بند کر رکھا ہے۔

البتہ جنگ بندی معاہدے میں اسرائیل نے ساحلی جانب سے غزہ میں بعض اشیا کے لیے راستہ کھولنے کا اسرائیل پابند ہے۔

امکان ہے کہ جان کیری محمود عباس سے ملاقات میں انہیں عالمی اداروں کی رکنیت حاصل کرنے اور اسرائیل کے خلاف عالمی اداروں سے رجوع کرنے سے باز رکھنے پر بات کریں گے۔ کیونکہ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ فلسطین کی اسرائیل کو جنگی جرائم کے حوالے سے عالمی عدالت میں لے جانے کی حکمت عملی سے عدم استحکام کا خطرہ ہو گا۔

جان کیری کی کوشش ہے کہ 2013 کے دوران ازسر نو بحال ہونے والے امن مذاکرات کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع ہو جائے جہاں ماہ اپریل میں ٹوٹ گیا تھا۔