.

لبنان: ایک اور فوجی النصرہ میں شامل ہو گیا

جاری کردہ ویڈیو میں حزب اللہ پر لبنانی فوجیوں کے قتل کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے ایک خبررساں ادارے نے لبنانی فوج کے ایک ایسے بھگوڑے فوجی کی ویڈیو ریلیز کی ہے جس نے فوج سے بھاگ کر شام میں القاعدہ کی حامی عسکریت پسند تنظیم "النصرہ فرنٹ" میں شمولیت حاصل کر لی ہے۔

لبنانی فوج کے کسی اہلکار کی عسکریت پسند تنظیم میں شمولیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ماہ جولائی میں بھی ایک لبنانی فوجی نے فوج سے الگ ہو کر عسکری تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

واضح رہے شام میں چوتھے سال میں داخل ہو چکی خانہ جنگی کی وجہ سے لبنان بطور خاص متاثر ہے۔ اس خانہ جنگی میں لبنان کی عسکری ملیشیا حزب اللہ اسد رجیم کا ساتھ دے رہی ہے اور لبنان میں حزب اللہ کی وجہ سے فرقہ واریت کو بڑھاوا ملا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے کی طرف سے جاری کی گئی اس ویڈیو فوٹیج میں محمد انتار نامی فوجی کے ساتھ دو مسلح افراد کھڑے دکھائے گئے ہیں۔ محمد انتار نے اس موقع پر حزب اللہ پر الزام لگایا کہ اس نے جنوبی لبنان میں لبنانی فوجیوں کو قتل کیا ہے۔

ویڈیو میں فوج چھوڑ کر النصرہ فرنٹ میں شامل ہونے والے اس کا فوجی شناختی کارڈ بھی دکھایا گیا ہے۔ واضح رہے جمعہ کے روز النصرہ فرنٹ نے اس فوجی کے اپنی صفوں میں آجانے کا اعلان ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا تھا۔

النصرہ فرنٹ میں شامل ہونے والے اس شخص نے مشین گن اٹھا رکھی ہے اور اس کے آس پاس دو مسلح نقاب پوش کھڑے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق لبنان کے فوجی ذرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ فوجی پچھلے کئی ہفتوں سے غائب تھا۔ نیز اس نے اپنی چھٹیوں کے دوران فوج سے بھاگنے کا منصوبہ بنایا۔

ماہ جولائی کے دوران عاطف سعدالدین نامی لبنانی فوجی کی بھی عسکری تنظیم نے اسی طرح ویڈیو جاری کی تھی کہ اس نے فوج چھوڑ کرعسکریت اختیار کر لی ہے۔