.

لبنان کے بھگوڑے فوجی کی النصرۃ محاذ میں شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے ایک بھگوڑے فوجی کی انٹرنیٹ کے ذریعے ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ شام میں القاعدہ سےوابستہ باغی جنگجو گروپ النصرۃ محاذ میں شامل ہوگیا ہے۔

ویڈیو میں نمودار ہونے والے فوجی نے اپنا نام محمد عنتر بتایا ہے۔اس نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر گذشتہ سال جون میں جنوبی شہر سیدا کے علاقے عبرا میں لبنانی فوجیوں کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔ویڈیو میں پس منظر میں سیاہ اور سفید پرچم نظرآرہا ہے اور اس کے ساتھ دو نقاب پوش مسلح افراد نظر آرہے ہیں جنھوں نے اے کے 47 رائفلیں ہاتھوں میں تھام رکھی ہیں۔

النصرۃ محاذ نے قبل ازیں جمعہ کی صبح ٹویٹر پرعنتر کے منحرف ہونے کی اطلاع دی تھی اور اس کی ایک تصویر پوسٹ کی تھی جس میں اس نے ایک مشین گن پکڑی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ دو مسلح افراد تھے۔

لبنانی فوج کے ایک ذریعے نے ترکی کی خبررساں ایجنسی اناطولو سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منحرف فوجی گذشتہ کئی ہفتوں سے لاپتا تھا اور وہ تعطیلات کے دوران فوجی ڈیوٹی سے فرار ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ کوئی لبنانی فوجی منحرف ہوکر شام کے باغی گروپ النصرۃ محاذ میں شامل ہوا ہے۔اس سے پہلے جولائی میں ایک لبنانی فوجی عاطف سعدالدین ایک ویڈیو میں نمودار ہوا تھا اور اس نے فوج کو خیرباد کہنے اور النصرۃ محاذ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا۔

شام میں گذشتہ ساڑھے تین سال سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں لبنان میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھاوا ملا ہے۔لبنان کی شیعہ آبادی اور ملیشیا حزب اللہ شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہی ہے اور اس تنظیم سے وابستہ جنگجو لبنانی فوج کے شانہ بشانہ سنی باغیوں کے خلاف لڑرہے ہیں جبکہ لبنان کے اہل سُنت اپنے ہم مسلک شامی باغیوں کے حامی ہیں۔