.

عراق: داعش کے خودکش حملے ،28 کرد ہلاک

تین اور بم دھماکے ،صوبائی پولیس سربراہ سمیت 7 افراد مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں دولت اسلامی (داعش) کے مشتبہ خودکش بمباروں نے کردسکیورٹی فورسز کے ایک ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں اٹھائیس اہلکار ہلاک اور نوّے زخمی ہوگئے ہیں۔

داعش کے خودکش بمباروں نے اتوار کو شمالی صوبے دیالا میں کرد سکیورٹی فورسز کے ایک کمپاؤنڈ میں گھس کر دھماکے کیے ہیں۔اسلامی جنگجوؤں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والے امریکا میں قائم گروپ سائٹ کی اطلاع کے مطابق داعش نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے کرد آبادی پر مشتمل قصبے قارہ تپا میں واقع البیش المرکہ کے کمپاؤنڈ پر حملے کے لیے تین غیرملکی بمباروں کو بھیجا تھا۔ان میں ایک جرمن ،ایک سعودی اور ایک ترک تھا۔

سنی اکثریتی صوبے الانبار میں ایک اور بم حملے میں صوبائی پولیس سربراہ ہلاک ہوگیا ہے۔عراقی حکام کی اطلاع کے مطابق پولیس سربراہ جنرل احمد صادق الدلیمی صوبائی دارالحکومت رمادی سے پندرہ کلومیٹر مغرب میں واقع ایک گاؤں کے نزدیک گشت پر تھے۔اس دوران ان کے قافلے کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر دیالا کے صوبائی دارالحکومت بعقوبہ میں ایک بازار میں دو بم دھماکے ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں چھے افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔گذشتہ روز دارالحکومت بغداد اور اس کے نواحی علاقوں میں بم دھماکوں میں پینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

عراق میں داعش کے جنگجوؤں نے امریکا کی قیادت میں اتحادیوں کے فضائی حملوں کے باوجود برسرزمین پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور وہ کرد اور عراقی فورسز پر اب خودکش بم حملے کررہے ہیں۔

امریکا اور دوسرے مغربی ممالک کے طیارے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں جبکہ کرد اور عراقی سکیورٹی فورسز داعش کے خلاف زمینی کارروائی کررہی ہیں لیکن اس فضائی مدد کے باوجود انھیں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے اور داعش کا عراق کے شمالی شہروں سے لے کر شام کے شمال اور مشرق میں واقع شہروں اور قصبوں پر قبضہ برقرار ہے۔