.

ترکی: عدالتی کونسل میں حکومتی حمایت یافتہ امیدوار کامیاب

فتح اللہ گولین کے حامی صرف دو امیدوار کامیاب ہو سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں حکومت کے حمایت یافتہ امیدواروں نے عدالتی شعبے کی اعلی اختیاراتی باڈی کی دس میں سے آٹھ نشستیں جیت لی ہیں۔ عدالتی کونسل میں حکومتی حمایت رکھنے والے امیدواروں کی کامیابی صدر طیب ایردوآن کی جیت سمجھی جا رہی ہے۔

چند ماہ قبل طیب ایردوآن اور ان کی حکومت کو امریکا میں مقیم ترک عالم دین فتح اللہ گولین کے حامی عدالتی شعبے اور پولیس میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑاتھا۔

فتح گولین خود ساختہ جلاونی کاٹ رہے ہیں تاہم ملک کے اندر ان کے تعلیمی اداروں کے نیٹ ورک اور پولیس وغیرہ میں اپنے پیروکاروں کی بڑی تعداد سے گہرے رابطے میں ہیں۔

اس عدالتی شعبے کے اہم انتخاب میں مجموعی طور پر 1400 ججوں، پراسیکیوٹروں اور جج حضرات کے اعلی بورڈ کے ارکان نے بطور ووٹر حصہ لیا ہے۔

منتخب کونسل کے کل 22 ارکان ہیں۔ یہ ارکان اعلی عدالتوں کے لیے تقرریوں اور تبادلوں کا اختیار رکھتے ہیں۔ دس منتخب ارکان میں سے دو فتح گولین کے حامی ہیں۔ اس سے پہلے عمومی طور پر یہ تاثر تھا کہ عدالتی شعبے میں فتح گولین کے حامیوں کا اثر و رسوخ زیادہ ہے۔

عدالتی کونسل میں ترک صدر کو چار ارکان نامزد کرنے کا اختیار ہے۔ حکومت کی طرف سے دوسری ارکان کی تعیناتی سے حکومت کے حامیوں کی مجموعی تعداد 15 ہو جائے گی۔

صدر طیب ایردوآن جو کہ ملک میں صدارتی منصب کو انتظامی اختیار سے لیس کرنا چاہتے ہیں فتح اللہ گولین پر الزام عاید کرتے ہیں کہ وہ ایک متوازی ریاست بنانے کی کوشش میں ہیں۔

دونوں کے درمیان کھلا اختلاف ایردوآن کابینہ کے کئی ارکان پر کرپشن کے الزامات لگنے پر سامنے آیا تھا۔ جس سے ترکی کے سیاسی میدان میں کافی ہلچل پیدا ہو گئی تھی اور کئی وزراء کو استعفا دینا پڑا تھا۔