.

مسجد اقصی: اسرائیلی پولیس کی فلسطینی مظاہرین پر چڑھائی

مسلمان یہودیوں کی مسجد اقصی آمد پر احتجاج کر رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے پیر کے روز فلسطینی مظاہرین پر اس وقت چڑھائی کر دی جب وہ مسجد اقصی میں یہودیوں کے آنے پر احتجاج کر رہے تھے۔ فلسطینی مظاہرین کا احتجاج صبح کی عبادت کے بعد سامنے آیا ۔

شدت پسند یہودی مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کے اس حصے میں داخل ہوئے تھے جسے مسلمان اور یہودی دونوں ہی بابرکت سمجھتے ہیں۔

اس سے پہلے بدھ کے روز بھی اسی طرح کا تصادم پیش آیا تھا جب یہودی اپنے تہوار سے ایک روز پہلے مسجد اقصی میں داخل ہوئے تھے اور فلسطینی مسلمانوں نے اس پر احتجاج کیا تھا۔ واضح رہے یہودی اپنے اس تہوار سے پہلے روایتی طور پر روزہ رکھتے ہیں۔

پولیس ترجمان لوبا سامری کے مطابق ''مظاہرین نے پولیس پر پتھراو کیا اور آگ لگانے والے بم پھینک کر پولیس کی عارضی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ ''

جب پولیس نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا تو وہ مسجد اقصی کے اندر چلے گئے۔ اسرائیلی پولیس کو مسجد کے اندر جانے کا حق حاصل نہیں ہے۔

اس جگہ پر اسرائیلی پولیس عام طور پر فلسطینی نمازیوں اور مظاہرین کے خلاف کارروائی کرتی رہتی ہے۔ غیر مسلموں کی مسجد اقصی آمد کو پولیس یقینی بناتی ہے۔

تاہم یہودیوں کو مسجد اقصی میں عبادت کی اجازت نہ ہونے کے باوجود جب وہ اس میں داخل ہوتے ہیں تو تصادم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

پیر کے روز بھی یہودیوں کے لیے مخصوص مغربی دیوار سے شدت پسند یہودی آگے اس حصے میں چلے گئے جہاں انہیں جانے کی اجازت نہیں ، لیکن پولیس ان کی سر پرستی کرتی ہے۔ اس صورت حال میں فلسطینیوں نے صبح سویرے احتجاج کیا جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف طاقت کا ستعمال شروع کر دیا۔