.

نارین عفرین: کوبانی میں کُرد جنگجوؤں کی خاتون کمانڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور تُرکی کی سرحد پر واقع کرد اکثریتی علاقے عین العرب المعروف کوبانی میں دولت اسلامی کے شدت پسند طاقت کا بھرپور استعمال کرتےہوئے آگے بڑھ رہے ہیں، ان کا مقابلہ کرنے والے کرد جنگجوؤں کے ایک گروپ کی قیادت ایک نوجوان خاتون کر رہی ہے۔

مردانہ صفات کی حامل بہادر دوشیزہ کا اصل نام میسا عبدو ہے لیکن اس نے اپنا فوجی کوڈ نام 'نارین عفرین' رکھا ہے اور میدان جنگ میں اسے اسی نام سے جانا جاتا ہے۔

لندن سے شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والی آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ نارین عفرین 'قومی دفاع' بریگیڈ کی کمان کر رہی ہے اور کردوں کے اس گروپ نے داعشی جنگجوؤں کی کوبانی میں مسلسل پیش قدمی میں شدید مزاحمت کی۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ میسا عبدو کو میدان جنگ میں 'نارین عفرین' ہی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قومی دفاع نامی جس بریگیڈ کی یہ کمان کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ایک مرد کمانڈر محمود برخدان بھی جنگجوؤں کی قیادت میں اس کی مدد کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ 'قومی دفاع' نامی کردوں ‌کی عسکری تنظیم پچھلے ایک ماہ سے کوبانی میں داعشی جنگجوؤں کے خلاف بر سر پیکار ہے اور کئی محاذوں پر دولت اسلامی کے جنگجوؤں کو شکست بھی دے چکا ہے۔

قومی دفاع نامی گروپ شام کے شمالی اور شمال مشرقی کرد علاقوں میں تین سال قبل اس وقت قائم کیا گیا جب صدر بشار الاسد کے خلاف مسلح بغاوت کی تحریک شروع ہوئی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد خانہ جنگی کی صورت میں کرد آبادی کا دفاع کرنا تھا۔ قومی دفاع کو ترکی میں کرد علاحدگی پسند تنظیم 'کردستان ڈیموکریٹک الائنس' ہی کی ایک ذیلی تنظیم سمجھا جاتا ہے جو شام میں علاحدہ کرد ریاست کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 40 سالہ نارین عفرین حلب کے عفرین شہر سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے اپنے آبائی شہر ہی کی نسبت سے اپنا فوجی کوڈ نام 'نارین عفرین' رکھا ہے۔

عین العرب کے ایک کرد سماجی کارکن مصطفیٰ عبدی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ مقامی آبادی نارین عفرین کو ایک ذہین، خاموش اور تعلیم یافتہ خاتون کے طور پر جانتی ہے۔ عبدی نے کہا کہ جنگ میں دشمن کےخلاف فولادی جذبے سے لڑنے والی نارین اپنے لوگوں‌ کے لیے اخلاق حسنہ کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ جب سے نارین نے عسکری گروپ کی کمان سنھبالی ہے کرد خواتین کی بڑی تعداد اس میں شامل ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ پانچ اکتوبر کو اسی گروپ کی ایک دوسری خاتون دیلار جنکسی میس المعروف عفرین میرکان نے داعش کے جنگجوؤں سے لڑتے ہوئے خودکش حملہ کیا تھا۔ سنہ 2011ء کے بعد سے شام میں جاری خانہ جنگی میں کسی کرد خاتون کا یہ پہلا خودکش حملہ ہے۔