.

"اسد حکومت ختم ہوئی تو اسرائیل بھی سلامت نہیں رہے گا"

ترکی شام میں اپنے فوج داخل کرنے سے باز رہے: ایران کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے کہا ہے کہ شام میں ‌صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں اسرائیل کی سلامتی داؤ پر لگ سکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ کے معاون خصوصی برائے عرب و افریقی امور حسین امیر عبدللھیان کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت ختم ہو جاتی ہے تو پھر اسرائیل کی 'سلامتی' کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

اپنے ایک انٹرویو میں ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ پیغام امریکیوں کو بھی پہنچا دیا ہے کہ اگر آپ دہشت گردی ختم کرنے کی آڑ میں شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت گرانا چاہتے تو یہ یاد رکھیں کہ پھر اسرائیل بھی سلامت نہیں رہے گا۔

حسین اللھیان نے شام اورعراق میں سرگرم دولت اسلامی"داعش" کے خلاف امریکی قیادت میں عالمی اتحادی فوج کی کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے داعشی جنگجؤؤں سے جس ناپسندیدہ طریقے سے امریکا اور اس کے اتحادی نمٹ رہے ہیں اس کے صہیونی اور امریکیوں پر خطرناک نتائج مرتب ہوں‌ گے۔

انہوں‌نے مزید کہا کہ ہم بشار الاسد کو تاحیات ملک کا صدر رکھنے کے قطعا حامی نہیں ہیں لیکن موجودہ حالات میں ان کی حکومت کا خاتمہ دہشت گردی کی فتح اور آئینی مزاحمت کا خاتمہ ہو گا۔ اس لیے ایران شام میں فوری طور پر حکومت کی تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گا۔ ایران نے ضروری سمجھا تو عالمی برادری میں شامل اپنے اتحادیوں کےصلاح مشورے کےبعد ہی شام میں حکومت کی تبدیلی کی اجازت دے گا۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ترکی کی سرحد سے متصل شام کے کرد اکثریتی علاقے کوبانی میں داعش کی پیش قدمی کے حوالے سے ترک حکومت کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ تہران نے انقرہ کو خبردار کیا ہے کہ شام میں اس کی بری فوج کے داخلے کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔