.

یزیدیوں کی بیدخلی اور فروخت پر داعش کا اظہار تفاخر

داعش کے ترجمان رسالے میں شائع مضمون میں اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں سرگرم انتہا پسند تنظیم دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' نے یزیدی قبائل کی خواتین کو باندیوں کے طور پر فروخت کرنے کا پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے۔

یہ اعتراف داعش نے اپنے ترجمان رسالے 'دابق' میں اتوار کے روز شائع ہونے والے ایک مضمون میں کیا ہے۔ مضمون کے مطابق "ہم [داعش] نے شمالی عراق میں یرغمال بنائی گئی خواتین اور بچوں کو اپنے جنگجووں کے درمیان مال غنیمت کے طور پر تقسیم کیا۔ ان یرغمالیوں کی بطور باندیوں کے اپنے جنگجووں میں تقسیم پر ہمارا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔"

'دابق' میں شائع ہونے والے مضمون میں تصدیق کی گئی ہے کہ 'مشرک' خاندانوں کے خلاف وسیع پیمانے پر ہونے والی یہ پہلی کارروائی تھی۔ مضمون میں دعوی کیا گیا کہ یہ معاملہ منظر عام پر آنے والا پہلا مگر چھوٹا سا ایشو ہے۔ فلپائن اور نائیجریا میں سرگرم مجاہدین نے وہاں پر عیسائی خواتین اور بچوں کو بڑے پیمانے پر بیدخل کیا ہے۔

مضمون میں اس امر کی جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ "اہل کتاب بشمول یہودیوں اور عیسائیوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسلام قبول کر کے یا پھر جزیہ دیکر دولت اسلامی میں قیام کر سکتے ہیں، تاہم واضح رہے کہ یہ اصول یزیدیوں پر لاگو نہیں ہوتا۔"

داعش کا یہ اعتراف ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے عراقی کردستان سے بیدخل ہونے والے دسیوں یزیدیوں سے کیے گیے انٹرویوز کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ داعش نے 336 افراد کو یرغمال بنا رکھا ہے، تاہم ان کی تعداد تین گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔"