.

کوبانی پر فضائی حملوں سے داعش جنگجو پسپائی پر مجبور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے کرد اکثریتی علاقے کوبانی سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے جمعرات کے روز دعوی کیا کہ امریکی سربراہی میں علاقے پر کیے جانے والے فضائی حملوں سے محاصرہ زدہ شامی قصبے سے دولت اسلامی کے جنگجو پسپا ہو رہے ہیں۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کرد اہلکار ناسن نے بتایا کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران بین الاقوامی اتحاد داعش کے خلاف بے جگری سے لڑا ہے۔

انہوں نے داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے حملوں سے پہلے داعش کوبانی کے تیس فیصد علاقے پر قابض تھی تاہم حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد یہ تسلظ گھٹ کر بیس فیصد علاقے تک رہ گیا ہے۔

ناسن نے مزید کہا کہ ترک سرحد پر واقع کوبانی کے مشرقی اور جنوبی مشرقی علاقے میں کرد فورسز کی کارروائی سے داعش کے جنگجو تتر بتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید فوجی کمک فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ 'ہمیں مزید فضائی حملوں اور زمین پر داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے مزید ہتھیار درکار ہیں۔'