.

عراق: رمادی میں داعش مخالف کارروائی،کرفیو نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی حکومت نے مغربی صوبے الانبار کے دارالحکومت رمادی میں سکیورٹی فورسز اور قبائلیوں کی دولت اسلامی (داعش) کے خلاف کارروائی کے پیش نظر کرفیو نافذ کردیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے بدھ کی شب رمادی پر تین اطراف سے حملہ کیا تھا جس کو عراقی سکیورٹی فورسز نے پسپا کردیا تھا۔عراقی پولیس کے کپتان تحسین الدلیمی نے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے شہر پر پہلے مارٹر گولے فائر کیے تھے اور پھر چڑھائی کی تھی۔اس کے بعد حکومت نواز فورسز نے داعش کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔

رمادی عراق کے دارالحکومت بغداد سے صرف ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں واقع ہے۔اگر اس شہر پر داعش کے جنگجوؤں کا قبضہ ہوجاتا ہے تو پھر بغداد کی جانب پیش قدمی کے لیے ان کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

داعش نے جون سے صوبے الانبار کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کررکھا ہے لیکن وہ گذشتہ ہفتوں کے دوران سرتوڑ کوشش کے باوجود رمادی پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں کرسکے ہیں اور ان کا بغداد کے نزدیک واقع صوبے کے ایک قصبے امیریات الفلوجہ پر بھی قبضہ نہیں ہوا ہے۔بدھ کو اس قصبے میں داعش کے خلاف جنگ کے لیے عراقی فوج کی مزید کمک بھیجی گئی تھی۔

علاقے میں پولیس کے سربراہ میجر عارف الجنابی نے کہا ہے کہ ان کے پاس دو بٹالینز کی آمد ہوچکی ہے اور وہ جنگجوؤں پر حملے کے لیے احکامات کے منتظر ہیں۔امیریات الفلوجہ داعش کے اہم گڑھ مغربی شہر فلوجہ اور دریائے فرات کے کنارے آباد قصبے جرف السخر کے درمیان واقع ہے۔اسی قصبے سے جنوبی شہر کربلا کی جانب راستہ جاتا ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ الانبار کی سرحدیں اردن ،سعودی عرب اور صوبہ بغداد کے ساتھ ملتی ہیں۔اس صوبے میں حالیہ ہفتوں کے دوران عراقی سکیورٹی فورسز کو داعش کے خلاف جنگ میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔تین روز پہلے عراقی فوجیوں کو اس صوبے کے قصبے ہیت کے نزدیک واقع ایک اڈے سے واپس بلا لیا گیا تھا اور انھیں صحرائی علاقے میں واقع ایک بڑے فضائی اڈے میں دوبارہ مجمتع کیا گیا ہے۔تاہم عراقی فورسز کے بعض حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر داعش کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی نہیں کی گئی تو پھر کوئی بھی ان کے پورے صوبے الانبار پر کنٹرول کو نہیں روک سکے گا۔