.

اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون امریکا میں!

جان کیری کے بیان کے بعد دوطرفہ کشیدگی کے خاتمے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون امریکا کے پانچ روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچے ہیں اور ان کے اس دورے کا بڑا مقصد امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی دوطرفہ کشیدگی کا خاتمہ ہے۔

موشے یعلون نے اپنے دورے سے قبل جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی تنازعے کو اسرائیل کے اپنے قریبی اتحادی ملک کے ساتھ اہم تعلقات پر اثرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات باہمی مفادات اور اقدار پر مبنی ہیں،ان پر کسی بھی قسم کے تنازعے کو اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی''۔موشے یعلون دورے میں امریکی ہم منصب چک ہیگل اور دوسرے دفاعی عہدے داروں سے ملاقات کریں گے۔

وہ نیویارک بھی جائیں گے۔ وہاں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون اور امریکا کی اقوام متحدہ میں متعین سفیر سمانتھا پاور سے بھی ملاقات کریں گے۔وہ ان کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام ،اسرائیل کی غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ اور عراق اور شام میں داعش کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جنگ سمیت مختلف امور تبادلہ خیال کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اگلے روز خبردار کیا تھا کہ اسرائیل،فلسطینی تنازعے کے جاری رہنے کی وجہ سے داعش کو جنگجو بھرتی کرنے کا جواز مل رہا ہے۔انھوں نے تنازعے کے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی ضرورت پرزوردیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے خطے میں جس کسی لیڈر سے بھی بات کی ہے،اس نے میرے ساتھ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کا مسئلہ اٹھایا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے ہی داعش کو جنگجو بھرتی کرنے کا جواز مل رہا ہے،لوگوں میں غیظ وغضب پایا جاتا ہے اور وہ احتجاج کے موڈ میں ہیں''۔ان کا کہنا تھا کہ''لوگوں کو اس معاملے کے درمیان تعلق کو سمجھنے کی ضرورت ہے''۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے دو سینیر وزراء نے جان کیری کے اس مؤقف کو مسترد کردیا تھا کہ اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے کی وجہ سے اسلامی انتہا پسندی کو فروغ مل رہا ہے۔صہیونی ریاست کے وزیرمواصلات گیلاد ایردن نے اسرائیلی پبلک ریڈیو کے ساتھ جمعہ کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ''میں جان کیری اور ان کی کوششوں کا احترام کرتا ہوں لیکن انھوں نے ہمارے خطے اور اس کے تنازعات کی نوعیت سے متعلق عدم تفہیم کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔اس مرتبہ تو انھوں نے نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے''۔

اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعت جیوش ہوم پارٹی سے تعلق رکھنے والے اقتصادی امور کے وزیر نفتھالی بینیٹ کا کہنا تھا کہ دنیا اپنے مسائل کے لیے اسرائیل کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتی ہے۔ان صاحب نے ٹویٹر پر لکھا کہ''اگر کوئی برطانوی مسلمان ایک برطانوی مسیحی کا سرقلم کردیتا ہے تو اس کا الزام بھی یہودیوں پرعاید کردیا جاتا ہے''۔ان وزیرصاحب نے جان کیری کے بیان کی اپنے انداز میں تشریح کرتے ہوئے اس کو یہود مخالف جذبات سے بھی جا ملایا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے جان کیری کی مذاکرات کی بحالی سے متعلق تجویز کے ردعمل میں دیے صہیونی وزراء کے ان بیانات کو جارحانہ اور مضحکہ خیز قراردیا تھا۔ محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان میری حرف نے جواب میں سخت بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ''ان دونوں نے جان کیری کے بیان کو اس کے سیاق وسباق سے ہٹ کر لیا ہے''۔

انھوں نے جمعہ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''سیکریٹری نے جو کچھ کہا،یہ اس کی نامناسب خواندگی ہے۔انھوں نے اسرائیل اور دولت اسلامیہ عراق اور شام (داعش) کے درمیان کوئی ناتا نہیں جوڑا تھا۔انھوں نے یا تو جان کیری کے بیان کو درست طریقے سے پڑھا ہی نہیں ہے یا پھر توڑپھوڑ کی سیاست میں ملوث ہیں''۔