.

مصر: سیناء میں بم دھماکا، سات فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سینا میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے کے نتیجے میں سات فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

مصری حکام کے مطابق جزیرہ نما سینا میں اتوار کو ایک گیس پائپ لائن کے ساتھ نزدیک سڑک پر نصب بم کے پھٹنے کے نتیجے میں دھماکا ہوا ہے جس سے فوجی بکتر بند گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔اس بم حملے میں مرنے اور زخمی ہونے والے فوجی گیس پائپ لائن کے تحفظ کے لیے تعینات تھے۔

اس حملے سے تین روز قبل ہی شمالی سیناء کے صوبائی دارالحکومت العریش میں اسی طرح کے ایک اور بم دھماکے میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ستمبر میں سینا میں دو بم دھماکوں میں سترہ پولیس اہلکار ہلاک مارے تھے۔جنگجو گروپ انصار بیت المقدس نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی اور انھوں نے ایک فوٹیج بھی جاری کی تھی۔

مصری فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اکتوبر کے دوران اب تک مختلف کارروائیوں میں بائیسں جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔ان میں انصار بیت المقدس کا ایک مقامی کمانڈر بھی شامل ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز جزیرہ نما سیناء میں گذشتہ ایک سال کے دوران اسلامی جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے باوجود ان کا مکمل قلع قمع کرنے میں ناکام رہی ہیں۔شام میں جاری خانہ جنگی میں حصہ لینے والے مصریوں نے 2011ء میں وطن لوٹنے کے بعد انصار بیت المقدس نامی تنظیم قائم کی تھی۔اس میں شامل زیادہ تر جنگجو بدو ہیں۔ان میں سے بعض کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ داعش کی صفوں میں بھی شامل رہے ہیں۔

ابتداء میں تو وہ سرحد پار اسرائیلی علاقے میں حملے کرتے رہے تھے اور اس کے بعد انھوں نے جولائی 2013ء میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد مصری سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کردیے تھے۔ان کے حملوں کی پاداش ہی میں مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد جماعت قراردے کر اس پر پابندی عاید کردی تھی جبکہ اخوان کا کہنا تھا کہ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس نے انصار بیت المقدس اور اس کی تشدد آمیز کارروائیوں سے بھی لاتعلقی ظاہر کی تھی۔