.

"1300 اردنی عراق میں داعش کے ہمراہ لڑ رہے ہیں"

اردن کے سابق وزیر اعظم معروف البخيت کا عمان میں خصوصی لیکچر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کے سابق وزیر اعظم معروف البخیت نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے ملک سے تعلق رکھنے والے 1300 تکفیری عراق میں انتہا پسند تنظیم داعش کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں، جن میں سے 200 مارے جا چکے ہیں۔

دارلحکومت عمان میں ایک لیکچر دیتے ہوئے معروف البخیت نے کہا "کہ حقیقت سے قریب اندازوں کے مطابق تکفیری مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے دو سے چار ہزار اردنی شہریوں میں سے تیرہ سو عراق میں داعش کے ہمراہ لڑ رہے ہیں، جن میں دو سو اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔"

اردن کی سرکاری نیوز ایجسنی 'پیٹرا' کے جانب سے جاری کردہ سابق وزیر اعظم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "عراق کے بحران کے چار ممکنہ سیناریو ہو سکتے ہیں۔ پہلے سیناریو میں وزیر اعظم حیدر العبادی پرامن سیاسی پروگرام دیں جن میں وہ عراقی معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے مفادات کا خیال رکھیں اور سنیوں کی شرکت کو یقینی بنائیں۔

دوسرا سیناریو ممکنہ طور پر یہ ہو سکتا ہے کہ عراقی فوج جیت جائے، تاہم مختلف وجوہات کی وجہ سے یہ عمل مشکوک دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس کے لئے تمام لوگوں کا تعاون درکار ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے عراقی رہنما نے مزید کہا کہ "ایک پیش رفت یہ ہو سکتی ہے کہ عراق کا منظر نامہ طول پکڑ جائے اور عراق کے مختلف اسیٹک ہولڈرز ملک کی تقسیم پر راضی ہو جائیں۔" انہوں نے کہا کہ یہ سیناریو عملی شکل اس لئے ںہیں ڈھال سکتا کہ بغداد کی آبادی مخلوظ مسالک پر مشتمل ہے اور ملک کے متعدد اہم وسائل کرکوک اور جنوب تک محدود ہیں جبکہ شمالی علاقہ ایسی نعمت سے محروم ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اردن کے حوالے سے عراق کا سب سے برا منظر نامہ یہ ہو سکتا ہے کہ عمان وہاں ہونے والی پیش رفت سے لاتعلق رہے اور خاموش رہے تاوقتیکہ وہاں سنی ریاست قائم ہو جائے، تاہم ایسی صورت میں عراق مسلکی بنیادوں پر تقسیم ہو جائے گا۔
معروف البخیت نے مزید کہا کہ موثر اور مقبول امر یہی ہے کہ عراق میں مصالحت کرائی جائے کیونکہ وہاں سنی حکومت کے قیام کے اردن سمیت قومی عرب سلامتی کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔

البخیت کے بقول داعش ملک کی جغرافیائی ہیئت کے باعث اردن پر حملہ نہیں کر سکتی کیونکہ ہماری صورتحال موصل سے مختلف ہے۔
اردنی رہنما نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ "شام اور عراق کی مسلکی بنیادوں پر تقسیم اردن کے لئے لمحہ فکریہ ہو گی کیونکہ اس کے نتیجے میں علاقے کی نئی حد بندی کرنا ہو گی جس میں داعش کی موجودگی میں ایک سنی ریاست اردن کی ہمسایہ ہو سکتی ہے جو اپنے طور پر اردن کو متزلزل رکھنے کے لیے بہت کافی ہے۔"