.

بغداد اور کربلا میں بم دھماکے، 43 افراد ہلاک

آیت اللہ سیستانی کی وزیراعظم عبادی کی داعش مخالف جنگ میں حمایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں شیعہ آبادی پر خودکش اور کار بم حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دارالحکومت بغداد اور کربلا میں نئے حملوں میں تینتالیس افراد ہلاک اور اسی سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ملک کے سرکردہ شیعہ رہ نما آیت اللہ علی سیستانی نے وزیراعظم حیدر العبادی کے زیر قیادت نئی حکومت کی دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں حمایت کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعظم حیدر العبادی نے سوموار کے روز جنوبی شہر نجف میں آیت اللہ علی السیستانی سے ملاقات کی ہے۔انھوں نے اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ علی السیتانی نے نئی حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہمیں ابھی طویل اور مشکل مشن درپیش ہیں۔ان میں ایک مشن کا تعلق ملک کی سکیورٹی سے ہے،ہمیں ہتھیاروں اور اپنی سکیورٹی فورسز کی تشکیل نو بھی کی ضرورت ہے''۔

درایں اثناء عراق کے دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے میں ایک مسجد کے باہر خودکش بم دھماکے میں سترہ افراد ہلاک اور اٹھائیس زخمی ہوگئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق اہل تشیع دوپہر کے وقت مسجد سے نماز ادا کرنے کے بعد باہر نکل رہے تھے۔اس دوران حملہ آور بمبار نے ان کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

جنوبی شہر کربلا میں یکے بعد دیگرے چار کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں چھبیس افراد ہلاک اور پچپن زخمی ہوگئے ہیں۔عراقی حکام کے مطابق حملہ آوروں نے بارود سے بھری کاریں شہر کے تجارتی علاقوں اور سرکاری دفاتر کے نزدیک کھڑی کی تھیں اور ان کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا ہے۔اسپتال ذرائع نے ان دھماکوں میں مذکورہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے بغداد اور کربلا میں ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن گذشتہ ایک ہفتے کے دوران عراقی دارالحکومت میں بالخصوص اہل تشیع کو اسی انداز میں خودکش بم حملوں یا کاربم دھماکوں میں ہدف بنایا گیا ہے اور داعش نے ان میں سے بعض حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔اتوار کے روز عراقی دارالحکومت میں اہل تشیع کی ایک مسجد میں بم دھماکے کے نتیجے میں اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔