.

جنونی یہودی آبادکار نے دو فلسطینی بچیاں کار تلے کچل دیں

تیز رفتار کار کی ٹکر سے بچیاں دور جا گریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مرکزی شہر رام اللہ میں سنجل کے مقام پر ایک یہودی آبادکار نے اندھا دھند کار چلاتے ہوئے سڑک پر چلتی دو کم سن فلسطینی بچیاں کچل ڈالیں، جس کے نتیجے میں ایک بچی موقع ہر شہید جبکہ دوسری کو شدید زخمی حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔

فلسطینی میڈیکل ذرائع نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ یہ واقعہ اتوار کی شام رام اللہ کے شمال مشرق میں سنجل کے مقام پر اس وقت پیش آیا جب دونوں بچیاں اسکول بس سے اتر کر سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق کار کی ٹکر سے چھ سالہ ایناس دار خلیل اور پانچ سالہ تولین عصفور شدید زخمی ہوئیں، تاہم ایناس اسپتال پہنچنے سے قبل ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔

فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اسامہ النجار نے بتایا کہ زخمی بچی کو رام اللہ کے ایک اسپتال میں انتہائی نہگداشت وارڈ میں داخل کیا گیا ہے، جہاں اس کے جسم کے بعض متاثرہ حصوں کی سرجری کی گئی ہے تاہم آخری اطلاعات تک وہ ہوش میں نہیں آسکی اور اس کی حالت بدستور خطرے میں ہے۔

کار کی خوفناک ٹکر

درایں اثناء جنونی کار ڈارئیور کرنے والے یہودی آباد کار کے ہاتھوں حادثے میں ماری جانے والی بچی ایناس خلیل کی والدہ تھانی خلیل اور عینی شاہدین نے بتایا کہ حادثہ ان کی آنکھوں کے سامنے پیش آیا۔ دونوں بچیاں اپنے اسکول کی بس سے اتر کر سڑک کی دوسری طرف جا رہی تھیں جہاں دونوں کی مائیں ان کی منتظر تھیں۔ اس دوران ایک جنونی یہودی آباد کار نہایت تیز رفتاری کے ساتھ کار چلاتے ہوئے ان کی طرف بڑھا اور دونوں بچیوں کو کار کی ٹکر سے اچھال کر دور پھینک دیا۔ ایک بچی کی والدہ نے بتایا کہ اس نےکار کی ٹکر لگنے کے بعد اپنی بچی کو ہوا میں اچھلتے اور کئی میٹر دور جا کر گرتے دیکھا۔

تھانی خلیل کو جب بتایا گیا کہ اس کی بچی زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئی ہے تو وہ شدید صدمے سے دوچار ہو گئی ہے۔ آہ و بکاء کرتےہوئے اس نے کہا کہ میں اپنی ننھی منھی بچی کو بچانے کے لیے آگے بڑھی لیکن میرے پہنچنے سے قبل ہی یہودی آباد کار کی کار نے اسے کئی میٹر دور اچھال دیا تھا، قریب ہو کر بھی میں اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

زخمی بچی تولین کی ماں نے بتایا کہ اس کی بیٹی ابھی اسپتال میں ایمرجنسی روم میں ہے جہاں اور کی صحت یابی کی کوئی اچھی خبر موصول نہیں ہو سکی۔

یہودیوں کو کھلی چھٹی

فلسطین میں کسی یہودی آباد کار کی تیز رفتار ڈرائیونگ کے نتیجے میں فلسطینی بچی کی شہادت کا اور دوسری کے زخمی ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس نوعیت کے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آنے لگے ہیں۔ ستم یہ ہے کہ اسرائیل میں اس نوعیت کے کیسز کی تحقیقات کے لیے قوانین صرف فلسطینیوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں، یہودی آباد کار دن بھر غنڈہ گردی سے فلسطینیوں کو کچلتے رہیں، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

اسپتال میں بچی کی خیریت دریافت کرنے کے لیے جمع ہوئے شہریوں کاکہنا تھا کہ کار کی ٹکر سے کسی فلسطینی شہری کا مارا جانا اسرائیلیوں کی نظرمیں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ کار کی ٹکر تو دور کی بات دانستہ طور پر فلسطینیوں کو گولیوں سے چھلنے کرنے والوں کا بھی کوئی احتساب نہیں ہوتا۔ ایناس اور تولین کو یہودی آباد کار نے دانستہ طور پر اپنی کار سے ٹکر ماری۔