.

داعش میں شامل 'عرب اسرائیلی' ڈاکٹر کی ہلاکت کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے شدت تنظیم دولت اسلامی عراق وشام"داعش" میں شامل ایک نوجوان اسرائیلی عرب ڈاکٹر کے شام میں جنگ میں مارے جانے کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے تعلق رکھنے والا عثمان ابو القیعان اگست میں لڑائی کے دوران مارا گیا تھا۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے"شین بیت" نے بتایا کہ عثمان ابو القیعان نے میڈیکل کی تعلیم اردن میں حاصل کی تھی اور تعلیم سے فراغت کے بعد وہ اسرائیل کے ایک اسپتال میں ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔

اسرائیلی پولیس نے مقتول ڈاکٹر ابو القیعان کے بھائی ادریس ابو القیعان کو حراست میں لیا ہے۔ اس پرالزام ہے کہ وہ اپنے بھائی اور ایک دوسرے عزیز شفیق ابو قیعان کو داعش میں بھرتی کرانے اور ترکی کے راستے انہیں شام بھجوانے میں ان کا معاون رہا ہے۔ تینوں کا تعلق مقبوضہ فلسطین کے جزیرہ نما النقب کے علاقے حورہ سے بتایا جاتا ہے۔ اسرائیلی خفیہ ادارے کا دعوٰی ہے کہ مقبوضہ عرب شہروں سے کم سے کم 30 عرب اسرائیلی داعش اور دوسرے جنگجو گروپوں میں شمولیت کے لیے شام جا چکے ہیں۔

صہیونی خفیہ ادارے نے فلسطینی شہریوں کے داعش اور دیگر انتہا پسند گروپوں میں شمولیت کے رحجان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کی زیر نگرانی نظریاتی اور عسکری تربیت حاصل کرنے والے عرب جنگجو اسرائیلی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ شام میں لڑائی کے بعد اسرائیل میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیلی پولیس نے گذشتہ مارچ میں ایک عرب اسرائیلی شہری کو شام میں عسکری تربیت کے حصول کے بعد واپسی پر حراست میں لیا تھا۔ دوران تفتیش اس نے بتایا کہ شام میں ٹریننگ کے دوران اس سے اسرائیل کے حساس مقامات اور خودکش دھماکوں کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہے ہیں۔

اسرائیل کے زیر انتظام مقبوضہ عرب علاقوں میں مجموعی طور پر 14 ملین افراد آباد ہیں، جو اسرائیل کی کل آبادی کا 20 فیصد ہیں۔ یہ عرب باشندے ان فلسطینیوں کی اولاد ہیں جو سنہ 1948ء میں اسرائیلی ریاست کے قیام وقت اپنے ہی علاقوں میں رہے اور انہوں‌نے کسی دوسرے علاقے کی طرف ھجرت نہیں کی۔