.

کوبانی میں قبضے کے لیے خونریز لڑائی

دو روز میں کردوں سے جھڑپوں میں داعش کے 70 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شہر کوبانی (عین العرب) میں حملہ آور دولت اسلامیہ (داعش) اور اس کا دفاع کرنے والے کرد جنگجوؤں کے درمیان خونریز لڑائی کی اطلاعات ملی ہیں اور گذشتہ دو روز میں اس لڑائی میں داعش کے کم سے کم ستر جنگجو مارے گئے ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں اور کردوں کے درمیان ہفتے کو شروع ہونے والی جھڑپیں رات بھر جاری رہی تھیں اور ان کے درمیان اتوار کو بھی لڑائی جاری تھی۔متحارب جنگجوؤں نے ایک دوسرے پر مارٹر گولے فائر کیے ہیں جبکہ داعش نے شہر میں پیش قدمی کے لیے کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر خودکش کار بم حملے بھی کیے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ دوروز میں کوبانی میں کردوں کے ٹھکانوں پر اڑتالیس مارٹر گولے فائر کیے ہیں۔اس دوران شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کی بھی کوبانی شہر میں موجودگی اور داعش کے خلاف لڑنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں ان کی الفجراول بریگیڈ کو مبینہ طور پر شہر کے صنعتی علاقے میں موجود دکھایا گیا تھا۔

کوبانی میں موجود ایک صحافی عبدالرحمان جوق نے بتایا ہے کہ ''رات ہم نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران سب سے خونریز لڑائی دیکھی ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے تین مختلف اطراف سے حملہ کیا تھا۔انھوں نے بلدیہ کی عمارت اور ایک مارکیٹ کو بھی نشانہ بنایا تھا۔اتوار کی صبح تک متحارب ملیشیاؤں کے درمیان لڑائی جاری تھی''۔

اس صحافی کے بہ قول صبح کے وقت انھوں نے بازاروں اور شاہراہوں میں متعدد تباہ شدہ کاریں اور ناکارہ مارٹر گولے دیکھے تھے جو پھٹ نہیں سکے تھے۔آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق داعش نے کرد ٹھکانوں پر دوخودکش کاربم حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

تاہم کوبانی کا دفاع کرنے والی ملیشیا میں شامل ایک جنگجو خاتون نے کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے باردو سے بھری ان کاروں کو اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی دھماکوں سے اڑا دیا تھا۔اس خاتون نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ رات کوبانی کے تمام علاقوں میں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو روز میں داعش کے ستر جنگجو کردوں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے ہیں۔اس نے کوبانی کے نزدیک واقع قصبے تل ابیاب میں موجود اپنے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ مرنے والے جنگجوؤں کی نعشیں اس قصبے کے ایک اسپتال میں منتقل کی جارہی ہیں۔تل ابیاب پر داعش کا کنٹرول ہے۔

اس کے علاوہ کردوں کے ساتھ مل کر لڑنے والے الرقہ بریگیڈ کے انقلابیوں نے داعش کے پکڑے گئے دو جنگجوؤں کو گولیوں سے اڑا دیا ہے۔ان میں سے ایک کی عمر صرف پندرہ سال تھی۔ ان دونوں کو سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجو بھی شام اور عراق میں اپنے مخالفین کو اسی انداز میں سروں میں موت سے ہم کنار کرتے رہے ہیں۔

کردوں کو مسلح کرنے سے انکار

درایں اثناء ترک حکومت نے ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کے کردوں کو کوبانی میں لڑنے کے لیے جانے کی اجازت دینے اور انھیں مسلح کرنے سے انکار کردیا ہے۔ترک میڈیا نے اتوار کو صدر رجب طیب ایردوآن کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''انقرہ حکومت کرد جنگجو گروپ وائی پی جی کو اس کے سیاسی ونگ پی وائی ڈی کے ذریعے مسلح نہیں کرے گی''۔

انھوں نے کہا ہے کہ ''پی وائی ڈی کو داعش کے خلاف محاذ کے لیے مسلح کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ہمارے لیے یہ گروپ بھی کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی طرح ہی ہے۔یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے''۔

انقرہ حکومت کو شُبہ ہے کہ وائی پی جی کے ترکی کے جنوبی علاقوں میں کردوں کے حق خوداختیاری کے لیے مسلح تحریک برپا کرنے والی جماعت کردستان ورکرز پارٹی سے تعلقات رہے ہیں لیکن ترک حکومت کے اس مؤقف کے خلاف مقامی کردوں نے اس ماہ میں شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں جن کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں پینتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے دس لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین کو پناہ دینے اور ان کی دیکھ بھال کرنے پر ترکی کی تعریف کی ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر اوباما نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ہفتے کی رات ٹیلی فون پر بات کی تھی اور دونوں لیڈروں نے داعش کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا تھا۔