.

یمن: القاعدہ کے ہاتھوں 20 سے زائد حوثی باغی ہلاک

باغیوں کو قبائل اور القاعدہ کی طرف سے مزاحمت کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیس سے زائد حوثی باغی القاعدہ کے ساتھ تصادم میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ عسکرییت پسندوں اور حوثی باغیوں کے درمیان یہ تصادم رادا کے علاقے میں پیش آیا ہے۔

'' العربیہ '' کے نمائندے کے مطابق آج جھڑپوں کے بعد 12 باغیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے رات کو حوثی باغیوں کی ایک جائے قیام کے قریب کار بم دھماکہ ہوا تھا۔

دوسری طرف حوثی باغیوں کو یمن میں اپنا کنٹرول قائم کرنے کی کوششوں کے دوران سنی قبائل اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کا سامنا ہے۔

کار بم دھماکے کے بعد القاعدہ نے باغیوں پر حملہ کیا۔ یہ باغی رادا کے شمال مشرق میں ایک شاہراہ پر تعینات تھے۔ ایک قبائلی ذریعے نے عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے '' شیعہ اکثریتی صوبے پر باغیوں نے پچھلے ہفتے ہی قبضہ کر لیا تھا۔ ''

واضح رہے حوثی باغیوں نے یمنی دارالحکومت صنعا ء اور بحر احمر پر واقع بندرگاہ کے علاقے میں کسی بڑی مزاحمت کے بغیر اپنے اثرات کو غیر معمولی طور پر بڑھا لیا ہے۔

باغیوں نے آسانی کے ساتھ دھامر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ اس علاقے میں حوثی باغیوں کو مقامی لوگوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔

البتہ سنی اکثریت کے علاقے بایدہ میں باغیوں کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یمن 2011 میں ابھرنے والی عرب بہاریہ کے دور سے بد امنی کا شکار ہے۔

اسی عرب بہاریہ کے دوران علی عبداللہ صالح ایسے مضبوط حکمران کو 2012 میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔