.

سعودی طالبعلم کے امریکی قاتل کے خلاف مقدمہ درج

گاڑی خریدنے کے بہانے چاقو سے ہلاک کیا، لاش صحرائی علاقے سے ملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک امریکی شہری پر سعودی طالبعلم کو قتل کرنے کا مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔ سعودی طالب علم اپنی گاڑی 30 ہزار ڈالر سے زائد میں فروخت کرنا چاہتا تھا جسے اس شخص نے چوری کرنے کی کوشش کی اور سعودی نوجوان کو چاقو گھونپ دیا۔

مبینہ قاتل 28 سالہ آگسٹن روسینڈوفرنانڈیز کیلفورنیا کا رہنے والا ہے۔ اس کی گرفتاری کے بعد پولیس حکام نے یہ بیان میں بتایا ہے کہ 23 سالہ سعودی طالبعلم عبداللہ عبداللطیف الکادی سعودی عرب میں الخوبر کا رہنے والا تھا اور کچھ عرصہ سے امریکا میں تعلیم کے لیے آیا تھا۔

اس کی رہائش کیلفورنیا یونیورسٹی کے نزدیک ہی بتائی گئی ہے۔ وہ الیکٹریکل انجینرنگ بننے آیا تھا۔ قتل کے بعد اس کی لاش ایک صحرائی علاقے کی ہائی وے سے اس کے گھر سے ایک سو پچاس کلومیٹر دور ملی تھی۔

تاہم پولیس حکام نے ابھی یہ واضح نہیں کیا ہے کہ قتل کی واردات کہاں پیش آئی۔ مبینہ امریکی قاتل کو جمعرات کے روز گرفتار کیا گیا اور اس نے پولیس کو ایک تحریری بیان دیا۔ اس پر پولیس نے ہائی جیکنگ، رہزنی کے دوران چاقو سے قتل کرنے کا مقدمہ بنایا ہے۔

سرکاری پراسکیوٹر نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ ملزم کو عدالت سے سزائے موت دلوانے یا عمر قید دلوانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ امریکی ملزم گاڑی خریدنے کے بہانے کئی مرتبہ طالبعلم سے بات کرتا رہا اور دو مرتبہ اس کے گھر بھی آیا۔

پولیس نے اس قتل کے سلسلے میں پہلے دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ لیکن با ضابطہ الزام فرنانڈیز پر عاید کیا گیا ہے البتہ تفیتش ابھی جاری ہے۔ پولیس چیف نے کہا یہ عام بات ہے کہ ہمارے یہاں آن لائن خرید و فروخت کے دوران لوگ ڈکیتی کی ورداتیں کر تے ہیں۔

مقتول کے بھائی 32 سالہ احمد الکادی نے اخبارات کو بتایا کہ ان کا بھائی 2010 سے امریکا میں تعلیم کے لیے مقیم تھا، وہ اپنا مستقبل روشن کرنے اور والدین کے لیے ایک قابل فخر بیٹا بننے کے لیے یہاں آیا تھا ، لیکن اسے قتل کر دیا گیا۔

واضح رہے مقتول کا بڑا بھائی لاش واپس سعودی عرب لے جانے کے لیے یہاں پہنچا ہے۔ بھائی نے کہا '' میرا بھائی ایک امن پسند نوجوان تھا۔'' بھائی نے لوگوں سے مقتول سعودی کے لیے دعا کی اپیل ہے۔