.

عراقی وزیراعظم اچانک ایران پہنچ گئے

صدر روحانی کے ساتھ داعش مخالف جنگی مہم پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی تہران کے دورے پر پہنچ گئے ہیں۔ عراق کی وزارت عظمی سنبھالنے اور داعش کے خلاف عالمی اتحادیوں کی مدد سے شروع کر دہ جنگی مہم کے بعد ان کا ایران کا یہ پہلا دورہ ہے۔

عراق کے ریاستی ٹی وی کے مطابق داعش کے عراق میں جاری محاصرے سے پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر حیدر العبادی ایرانی قیادت سے مشورے کے لیے پیر اور منگل کی درمیانی رات ایران گئے ہیں۔

وہ ایران میں صدر حسن روحانی کے علاوہ دوسری اہم شخصیات سے بھی داعش کے چیلنج اور اس کے خلاف جاری اتحادیوں کی فضائی کارروائیوں پر بات کریں گے۔ واضح رہے داعش کے عسکریت پسند ایرانی سرحد سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عراقی قصبے پر بھی قابض ہو چکے ہیں۔

نوری المالکی کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد عبادی کا دورہ انتہائی اہم ہے جب کہ اس دورے کے اچانک ہونے سے اس کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ اس سے پہلے ایران نوری المالکی کی بھر پور حمایت کرتا رہا ہے۔

لیکن اس کے باوجود نوری المالکی عراق میں درپیش عسکری چیلنج سے نمٹنے میں ناکام رہے۔ بعد ازاں ایران نے کھلے عام حیدر العبادی کے وزیر اعظم بننے کی حمایت کی۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب دیر سے ایران پہنچنے والے حیدرالعبادی کی آمد سے پہلے ان کے اس دورے کا اعلان یا شیڈول جاری نہیں کیا گیا تھا۔

ایران پہلا ملک ہے جس نے عراقی حکومت کی داعش کے خلاف لڑائی میں مدد کی اور داعش سے لڑنے والے کردوں کو اسلحہ بھجوایا ہے۔ جبکہ ایرانی القدس فورس کے سربراہ میجر جنرل قاسم سلیمانی کو بھی ایک سے زائد مرتبہ عراق میں داعش مخالف ملیشیاوں کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ وہ عراقی فوج کے آپریشنز اور شیعہ ملیشیا کے درمیان رابطہ کاری میں کلیدی کردار کے حامل ہیں۔

عراق اور ایران کے درمیان صدام دور کے خاتمے کے بعد غیر معمولی قربت ہے۔ جس کی بنیادی وجہ شیعہ پس منظر ہے۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی عراق میں کسی عالمی طاقت کی فوج کے زمین پر نہ اترنے کو اپنا اور عراقی حکومت کا فیصلہ بتاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات شیعہ رہنما آیت اللہ سیستانی سے ملاقات میں بھی کہی ہے۔

آیت اللہ سیستانی عراق میں موثر شیعہ رہنما ہیں، جنہوں تقریبا چار سال کے بعد کسی اعلی حکومتی عہدے دار سے ملاقات کی ہے۔