.

کردوں پر گرایا گیا اسلحہ داعش کے ہاتھ

شام کے جنوبی قصبے پر اسدی فوج کا فضائی حملہ ،8 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرحدی شہر کوبانی میں امریکا کی قیادت میں اتحادی فوجوں کی جانب سے کرد جنگجوؤں کے لیے گرائے گئے اسلحے اور گولہ بارود پر دولتِ اسلامیہ (داعش) نے قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ ''داعش کے جنگجوؤں نے اسلحے کی ایک کھیپ پر قبضہ کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے اس سے بھی زیادہ فوجی سازوسامان ان کے ہاتھ لگا ہو''۔

داعش کے حامی ایک میڈیا گروپ نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس کے مطابق جنگجوؤں کے ہاتھ جو اسلحہ آیا ہے،اس میں دستی بم ،ہلکے ہتھیار اور راکٹ گرینیڈ لانچر شامل ہیں۔یہ ویڈیو بظاہر مصدقہ لگ رہی ہے اور اس کو امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بھیجا گیا ہے۔

امریکی فوج نے کوبانی میں کرد جنگجوؤں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے سوموار کی صبح فوجی طیاروں کے ذریعے اسلحہ ،گولہ بارود اور طبی سامان گرایا تھا۔امریکی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائیہ کے تین سی 130 طیاروں کے ذریعے اسلحے اور گولہ وبارود پر مشتمل ستائیس بنڈل کوبانی میں پھینکے گئے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر بنڈل اپنے اپنے اہداف تک پہنچ گئے ہیں۔

امریکا کی جانب سے اس اسلحے کو گرانے کا مقصد داعش کا مقابلہ کرنے والے کرد جنگجوؤں کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا تھا لیکن یہ تمام اسلحہ اور گولہ بارود ان تک نہیں پہنچ سکا ہے اور ان کے بجائے داعش کے ہاتھ لگ گیا ہے۔

داعش کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر امریکا کا اسلحہ مہیا کرنے پر طنزیہ انداز میں شکریہ ادا کیا ہے اور ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے جس پر لکھا ہے:''ٹیم یو ایس اے''۔اب اس اسلحے کے داعش کے ہاتھ لگنے کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کو جہاں ایک طرف سُبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے تو وہیں انھیں تزویراتی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے کیونکہ امریکا کا یہ اسلحہ اور گولہ بارود اب برسرزمین موجود اس کے اتحادیوں کے خلاف ہی استعمال ہوگا۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو پہلے ہی اسلحے اور گولہ بارود کے معاملے میں خودکفیل ہیں کیونکہ عراق میں سرکاری فوج جون اور جولائی میں داعش کی شمالی صوبوں میں چڑھائی کے وقت اپنے ہلکے اور بھاری ہتھیار،اثاثے اور دیگر فوجی سازوسامان چھوڑ کر بھاگ گئی تھی اور داعش کے جنگجو اب تک عراقی فوج کو مہیا کردہ امریکی ساختہ اس اسلحے کے ساتھ لڑرہے ہیں۔

شامی فوج کا فضائی حملہ

درایں اثناء شامی فوج نے اردن کی سرحد کے نزدیک واقع باغیوں کے زیر قبضہ ایک جنوبی قصبے پر فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔

شام میں حکومت مخالف کارکنان پر مشتمل مقامی رابطہ کمیٹیوں اور شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اسدی فوج کے طیاروں نے شام اور اردن کی سرحد پر واقع قصبے نصیب پر کنستر بم گرائے ہیں جن کے نتیجے میں متعدد عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس بمباری میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ بہت سے افراد ابھی ملبے تلے دبے ہوئے ہِیں اور انھیں نکالنے کا کام جاری تھا۔

واضح رہے کہ شامی فوج نے ملک کے مختلف علاقوں میں باغیوں اور اسلامی جنگجو گروپوں کے ٹھکانوں پر حالیہ ہفتوں کے دوران تباہ کن بمباری کی ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے جنگی طیارے شام کے جنوب مشرقی اور شمالی علاقوں میں داعش کے ٹھکانوں پر تباہ کن فضائی حملے کررہے ہیں۔وہ ان حملوں کے ذریعے داعش کے جنگجوؤں کی پیش قدمی روکنے میں تو کسی حد تک کامیاب رہے ہیں لیکن ان کی مدد سے مقامی سکیورٹی فورسز داعش کے زیرقبضہ علاقوں کو واپس لینے میں ناکام رہی ہیں۔