.

یہود کا مقبوضہ القدس میں عرب جائیدادوں پر قبضہ

پُراسرار طریقے سے خریداری کے بعد یہودی آبادکار در آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے علاقے سلوان میں یہود نے فلسطینیوں سے دو عمارتیں خرید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ان کے قبضے اور تحفظ کے لیے سوموار کی صبح مسلح اسرائیلی محافظ درآئے ہیں۔

گذشتہ ماہ بھی یہودیوں نے اس علاقے میں اسی انداز میں دراندازی کی کوشش کی تھی۔ان کے اس اقدام کی امریکا نے مذمت کی تھی جس پر اسرائیل نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور پھر دونوں ممالک کے درمیان تندوتیز بیانات کا تبادلہ شروع ہوگیا تھا۔

مقبوضہ القدس کے عرب حصے میں یہود کو آباد کرنے کے لیے سرگرم ایک تنظیم عطریت کوہانیم کا کہنا ہے کہ اس نے عربوں کی ملکیتی دو عمارتوں کی خریداری کے لیے سہولت کنندہ کا کردار ادا کیا ہے۔

اس تنظیم کے ترجمان ڈینیل لورئی کا کہنا ہے کہ ''ان عمارتوں میں نو اپارٹمنٹ یونٹ ہیں۔ان میں بہت جلد یہودی خاندان اور مذہبی علوم کے طالب علم منتقل ہوجائیں گے۔اس کے بعد سلوان کے اس حصے میں یہودیوں کی موجودگی دُگنا ہوجائے گی''۔مسٹر لورئی کے بہ قول یہودیوں کے قدیم علاقے میں یہودی زندگی کی بحالی ان کے لیے اہمیت کی حامل ہے۔

یہ مکانات ایسے علاقے میں خرید کیے گئے ہیں جہاں گذشتہ صدی میں یمن سے نقل مکانی کرکے آنے والے یہودی آبادکار کئی عشرے تک رہتے رہے تھے۔1920ء اور 1930ء کے عشرے کے دوران عربوں کے احتجاجی مظاہروں کے بعد وہ وہاں سے چلے گئے تھے۔

گذشتہ ماہ یہودی آباد کاروں نے سلوان کے ایک اور علاقے میں چھے جائیدادوں پر قبضہ کر لیا تھا اور اس علاقے میں دوعشرے قبل یہود کی آمد کے بعد سے فلسطینیوں کی جائیدادیں ہتھیانے کی یہ سب سے بڑی کارروائی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو اشتعال انگیزی سے تعبیر کیا تھا لیکن انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ مکین جہاں چاہے ،جائیدادیں خرید سکتے ہیں۔تاہم اسرائیلی صدر ریووین ریولین نے اتوار کے روز ایک تقریر میں فلسطینیوں کے ملکیتی مکانوں پر قبضے کے انداز پر تنقید کی تھی۔

اسرائیلی صدر یہودیوں کے عرب علاقے میں بسنے کے حامی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس ایسا شہر نہیں ہوسکتا جہاں رات کے اندھیرے میں اپارٹمنٹس میں دراندازی کی جائے۔

واضح رہے کہ سلوان مقبوضہ بیت المقدس کے سب سے حساس علاقوں میں سے ایک ہے۔یہ چاردیواری کے اندر واقع قدیم شہر سے متصل واقع ہے۔فلسطینیوں نے یہود کی جانب سے عربوں کے مکان ہتھیانے کی پالیسی کی مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ وہاں سے مقامی لوگوں کو نکال باہر کررہے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے علاقوں سے یہودی آبادکاروں کو لاکر بسایا جارہا ہے۔

اس علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ عرب دلال مقامی لوگوں سے مکان خرید کرتے ہیں اور پھر بڑی خاموشی سے یہودی آباد کاروں کی تنظیموں کے ہاتھ فروخت کردیتے ہیں۔یہودی آبادکار گروپ سودے کی تفصیل کو جان بوجھ کر خفیہ رکھتے ہیں تاکہ عرب فروخت کنندگان کو ان کے ہمسایوں کے حملوں سے بچایا جاسکے۔

اسرائیلی وکیل آوی سیگال نے ایک ای میل میں دعویٰ کیا ہے کہ غیرملکی رئیل اسٹیٹ سرمایہ کار کمپنی قدرام لمیٹڈ نے قانونی طریقے سے ان دونوں عمارتوں کو خرید کیا ہے اور سوموار کو عطریت کوہانیم گروپ کی مدد سے ان پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔اس وکیل کے بہ قول رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی ایک اور کمپنی کینڈال فنانس نے گذشتہ ماہ سلوان میں چھے عمارتیں خرید کی تھی لیکن اس وکیل نے ان دونوں کمپنیوں کے مکمل تعارف کے حوالے سے کچھ بتانے سے گریز کیا ہے کہ وہ کہاں قائم ہیں اور انھیں سرمایہ کہاں سے فراہم ہورہا ہے۔