.

برطانیہ شام میں بھی داعش کے مقابل ہو گا: امریکا

برطانیہ، افغانستان میں بھی ہمارے شانہ بشانہ ہے، شام میں بھی ہو گا:جنرل جان ایلن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ داعش کے خلاف شام میں جاری جنگی مہم کا بھی حصہ بن سکتا ہے ۔ اس امر کا اشارہ داعش کے خلاف عالمی جنگی مہم کے امریکی سربراہ جنرل جان ایلن کی طرف سے دیا گیا ہے۔

امریکی جرنیل جان ایلن کے مطابق برطانیہ داعش کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر امریکا کے ساتھ ہو گا۔ جس طرح کہ ہم افغانستان میں ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ موجود ہیں۔ جنرل جان ایلن داعش کے خلاف عالمی مہم کے لیے فوجی رابطہ کار کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے برطانوی اعلی حکام سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔ انہی ملاقاتوں کے حاصل کے طور پر جنرل جان ایلن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے '' ہمارے درمیان داعش کے ساتھ نمٹنے کے لیے حکمت عملی اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اس حوالے سے میں کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ایک دوسرے کے شام میں بھی شانہ بشانہ ہونے کا اعلان کر سکیں گے۔''

واضح رہے برطانوی جنگی طیارے داعش مخالف مہم میں عراق میں حصہ لے رہے ہیں لیکن شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کا حصہ بننے کے لیے برطانیہ کے ہاں بھی تک مزاحمت پائی جاتی ہے۔

جب جان ایلن سے پوچھا گیا کیا کیا برطانیہ شام میں داعش کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا حصہ بن سکے گا تو انہو ں نے کہا'' ہاں میں سمجھتا ہوں کہ وہ ہماری مدد تذویراتی '' حوالے سے کریں گے، اسی پر ہماری اس وقت بات چیت چل رہی ہے۔''

داعش نے عراق اور شام کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کے بعد وہاں اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ اس کے ہاتھوں سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں اور اس نے متعدد غیر ملکیوں کے سر بھی قلم کیے ہیں۔''

جنرل ایلن نے کہا '' شامی باغیوں کی تربیت کا عمل جاری رہے گا جیسا کہ کوبانی نامی سرحدی قصبہ داعش اور کردوں کے درمیان ایک اہم میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ لیکن مسئلے سے نمٹنے کے لیے صرف فوج کی موجودگی کافی نہیں ہے۔''

جنرل ایلن کا کہنا تھا '' یہ کافی نہیں ہے کہ داعش کو صرف جنگی اعتبار سے شکست دی جائے بلکہ ہمیں داعش کے نظریے کو شکست دینا ہو گی، ہم دونوں ملکوں کو دہشت گردی کے اسباب کا خاتمہ کرنا ہو گا۔''

امریکی حکام سے ملاقات کے بعد برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہمونڈ نے کہا ہے '' داعش کی طرف سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمیں انتہا پسندی کی وجوہات کا خاتمہ کرنا ہو گا۔''

جنرل ایلن برطانیہ کے بعد بعض دوسرے یورپی ملکوں اور عرب ممالک کے دورے پر بھی جائیں گے، تاکہ داعش کے خلاف زیادہ سے زیادہ طاقت جمع کر سکیں۔