.

لبنانی فوجی کا قاتل داعش کا جنگجو گرفتار

لبنانی فوج کی کارروائی کے دوران تین مشتبہ مسلح افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی فوج نے ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران شام اور عراق میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے ایک بھرتی کنندہ کو گرفتار کر لیا ہے۔اس کے بارے میں شُبہ ہے کہ اس نے ایک یرغمال لبنانی فوجی کا سرقلم کیا تھا۔

لبنانی فوج نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ دہشت گرد احمد سلیم میقاتی اور اس کے بیٹے عمر کو ملک کے سرحدی شہر عرسال میں جمعرات کو علی الصباح ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ہے۔اس کارروائی میں تین اور دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ فوج میقاتی کے ایک بھتیجے بلال کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔یہ تینوں عرسال میں ایک سارجنٹ علی سید کے قتل میں ملوث ہیں۔داعش اور القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے اگست میں عرسال میں لبنانی سکیورٹی فورسز پر حملہ کردیا تھا اور وہاں ان کی فوج کے ساتھ خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں۔

بعد میں انتہا پسند جنگجو مقامی قبائل کی مداخلت کے بعد عرسال سے انخلاء پر آمادہ ہوئے تھے مگر وہ اپنے ساتھ جاتے ہوئے لبنانی فوج اور پولیس کے تیس اہلکاروں کو بھی اغوا کر کے لے گئے تھے۔اس کے بعد سے انھوں نے ان میں سے تین فوجیوں کو قتل کردیا ہے اور ان کی رہائی کے لیے قطر کی ثالثی کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔

فوج نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ احمد سلیم میقاتی شمالی لبنان میں داعش کا ایک اہم رہ نما ہے اور اس نے حال ہی میں داعش کی بیعت کی ہے۔میقاتی ابی بکر اور ابوالہدیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ فوج نے اس پر شام میں لڑائی کے لیے لبنانی جنگجو بھرتی کرنے اور وہاں بھیجنے کا الزام عاید کیا ہے۔

درایں اثناء لبنان کے ایک سکیورٹی ذریعے نے ایک بھگوڑے فوجی کو بھی گرفتار کرنے کی اطلاع دی ہے۔اس نے حال ہیں میں فوج سے منحرف ہونے کا اعلان کیا تھا۔اگست کے بعد سے لبنان کے پانچ فوجی منحرف ہونے کا اعلان کرچکے ہیں۔النصرۃ محاذ اور داعش نے ان کی ویڈیوز جاری کی تھیں جن میں انھوں نے الزام عاید کیا تھا کہ لبنانی فوج شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیر اثر ہے اور فوجی یونٹ اس تنظیم کے کمانڈروں کے حکم پر چلتے ہیں۔