.

افغانی چُغہ اور چادر: داعش کا اسکولوں کے لیے نیا یونیفارم

موصل میں تعلیمی اداروں کے نام تبدیل کر دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں خود ساختہ اسلامی ریاست کے قیام کی دعویدار تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ نے عراق کے شہر موصل کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبا وطالبات کے لیے نیا ضابطہ اخلاق اور یونیفارم جاری کیا ہے۔ طلباء کے لیے کھلا افغانی چغہ اور طالبات کے لیےمکمل چہرہ ڈھانپنے والی بڑی چادر بہ طور پر یونیفارم استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعشی جنگجوئوں کی توجہ نہ صرف جنگی محاذ پرمرکوز ہے بلکہ وہ اپنی خود ساختہ اسلامی ریاست کے قلمرو میں شامل علاقوں میں مخصوص تعلیمی نظام اور نصاب بھی مسلط کررہے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر تعلیمی اداروں میں چھاپے مارے جاتے اور طلبا اور اساتذہ کی سرگرمیوں کو چیک کیا جاتا ہے۔

داعش کے مخصوص طریق تدریس سے موصل کے لوگ سخت خوف زدہ ہیں اور بڑی تعداد میں والدین نے اپنے بچوں کو اسکول سے روک لیا ہے۔ ایک مقامی شہری نے داعش کے خوف سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ داعش کے نصاب تعلیم میں بچوں کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موصل کے بیشتر لوگوں نے اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا بند کردیا ہے کیونکہ کوئی شخص اپنے بچوں کو داعشی جنگجوئوں کی طرح دہشت گرد نہیں بنانا چاہتا ہے۔

مقامی شہری نے بتایا کہ ہم اس لیے بھی بچوں کو اسکول نہیں بھیج رہے کیونکہ عراقی حکومت داعش کے جاری کردہ تعلیمی اسناد کو قبول نہیں کرے گی۔ اس لیے بچوں کا اسکولوں میں جانا بے مقصد ہے۔

جامعہ موصل کے ایک استاد نے بتایا کہ داعشی جنگجوئوں نے شہر کے تمام تعلیمی اداروں کے اسٹاف ممبران کے فون نمبر اپنے پاس نوٹ کر رکھے ہیں۔ وہ جب اور جس کوچاہتے ہیں اپنے اجلاس میں بلا بھیجتے ہیں۔ اجلاس میں تعلیمی کارکردگی اور ضابطہ اخلاق کی پابندی سے متعلق بریفنگ لی جاتی ہے اور نئی ہدایات دی جاتی ہیں۔

جامعہ موصل سے وابستہ پروفیسر نے’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ شہر میں اسکولوں اور جامعات کے ناموں کی تبدیلی کی جو خبریں میڈیا میں آئی ہیں وہ درست ہیں، کیونکہ داعش نے تمام اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے نام تبدیل کرنا شروع کر دیے ہیں۔

عراقی پروفیسر نے بتایا کہ داعش نے جامعہ موصل اور دیگر تعلیمی اداروں کے طلباء کے لیے ایک نیا یونیفارم متعارف کرایا ہے، جس میں طلباء کے لیے کھلا افغانی چغہ بہ طور یونیفارم استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور طالبات کے لیے پورے جسم اور چہرے کو ڈھانپنے والی کھلی چادر کو لازمی قراردیا گیا ہے اور ساتھ ہی ایک ہفتے کے اندر اندر اس یونیفارم کا انتظام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔