.

بس ہو گئی، مزید شامی پناہ گزین قبول نہیں: لبنان

پناہ گزین ملکی آبادی کے ایک چوتھائی سے زیادہ ہیں: وزیر اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام سے آنے والے مزید پناہ گزینوں کو پناہ نہیں دے گا۔ اس امر کا اعلان لبنان کے وزیر اطلاعات نے کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ شام سے آنے والے بعض پناہ گزینوں کو اس فیصلے سے استثناء حاصل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب پناہ گزینوں کے کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کی نمائندہ کا کہنا ہے کہ لبنان نے شامی پناہ گزینوں کے لبنان میں داخلے کو ماہ اگست سے ہی روکنا شروع کر رکھا ہے۔

واضح رہے لبنان میں رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی تعداد گیارہ لاکھ ہے جبکہ لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ شامی خانہ جنگی کی وجہ سے بے گھر ہو کر آنے والوں کی لبنان میں تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

تین سال سے زائد عرصے پر پھیلی شامی خانہ جنگی کی وجہ سے مجموعی طور پر تین ملین شامی شہری ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ ملک کے اندر موجود آئی ڈی پیز کی تعداد لگ بھگ چھ ملین ہے۔

لبنانی وزیر خارجہ نے کہا ان کے چھوٹے سے ملک میں کم از کم 11 لاکھ لوگ آ چکے ہیں۔ اگر غیر اندراج شدہ پناہ گزینوں کی تعداد شامل کی جائے تو یہ ملک کی مجموعی آبادی کا ایک چوتھائی سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔

ہمسایہ ملکوں میں لبنان نسبتا زیادہ مسائل زدہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ان نقل مکانی کر کے آنے والوں کی وجہ سے مقامی سطح پر دیگر مسائل کے علاوہ روزگار کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔ جو عام لوگوں کے لیے بھی اضطراب اور کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں۔

سکولوں میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں شامی بچے لبنانی سکوں میں داخلے سے محروم ہیں۔ وزیر اطلاعت رمزی جیرجی نے کہا '' ہم شام سے آئے پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے پہلے ہی ہر طریقے سے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی نمائندہ نائینٹے کیلی نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ماہ اگست سے ہی لبنان شام سےآنے والوں کو روک رہا ہے۔

شام کے جنگ متاثرہ لوگوں نے بڑی تعداد میں لبنان، اردن، ترکی اور عراق میں پناہ لی ہے۔ لیکن ان ممالک میں کہیں بھی وسائل اور سہولتوں کی بہتات نہیں ہے۔