.

ایران: عزت بچانے والی خاتون کو پھانسی دے دی گئی

26 سالہ خاتوں پر انٹیلی جنس افسر کے قتل الزام تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے آواز بلند کیے جا نے کے باوجود 26 سالہ خاتون کو پھانسی دے دی ہے۔ اس ایرانی خاتون کو ایک انٹیلی جنس آفیسر کے قتل کے جرم میں کچھ عرصہ قبل سزائے سنائی گئی تھی جبکہ خاتون کا موقف تھا مقتول افسر اس کی عزت کے درپے ہوا تھا۔

ریحانے جباری نامی خاتون کو طلوع آفتاب سے پہلے ایک ایرانی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ تہران کے سرکاری پراسیکیوٹر نے فیس بک کے ذریعے اس واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔

محض ایک روز قبل بھی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایرانی حکو٘ت سے اپیل کی تھی کہ سزائے موت پر عمل در آمد روک دیا جائے۔
ایمنسٹی نے اپنی اپیل میں کہا تھا'' ایرانی حکام کو خاتون کو پھانسی نہیں دینا چاہیے جس نے ایک ایسے شخص کو قتل کیا تھا جو اس کی عزت پامال کرنے کی کوشش کا مرتکب ہوا تھا۔

انٹیلی جنس افسر کو خاتون نے 2007 میں چاقو کی مدد سے ہلاک کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق مانیٹرنگ کرنے والے ادارے نے انٹیلی جنس افسر کے قتل کو خود حفاظتی کی بنا پر ہونے والا قتل قرار دیا تھا۔

پھانسی پانے والی خاتون کے خلاف 2009 میں مقدمے کی سماعت کے دوران کافی کمزوریان سامنے آئی تھیں۔ ایمنسٹی نے اس مقدمے کی تفتیش کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

ایران کے نمایاں افراد جن میں فلمی شعبے سے وابستہ شخصیات بھی شامل تھیں خاتون کو پھانسی دینے کی مخالف تھی۔ اسی طرح مغربی ممالک میں بھی اس خاتون کو پھانسی دی جانے کے خلاف آواز اتھائی۔

پھانسی پانے والی عورت کی والدہ کو جمعہ کے روز ایک گھنٹے کے لیے آخری ملاقات کرنے کیا اجازت دی گئی۔ جس کے بعد ہفتے کو علی الصبح پھانسی دے دی گئی۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران میں رواں سال کے دوران 250 سے زائد افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ '' اقوام متحدہ کی انسانی حقوق باڈی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمہ کا اعترافی بیان دباو کے تحت لیا گیا تھا۔ جبکہ مقول افسر کے خاندان کا کہنا ہے کہ قتل سوچا سمجھا تھا اور اس نے قتل سے دو دن پہلے چاقو خریدا تھا۔

مقتول کے خاندان کا موقف تھا کہ وہ ملزمہ کو صرف اسی صورت معاف کر سکتے ہین کہ خاتون اس قتل کے پیچھے چھپے حقائق سامنے لائے اور عزت پامالی کی آڑ نہ لے ، تاکہ سچ سامنے آ سکے۔