.

غربِ اردن :اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے فلسطینی لڑکا شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن کے شہر رام اللہ کے شمال میں واقع ایک گاؤں میں فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں ایک کم سن لڑکا شہید ہوگیا ہے۔

گاؤں سلواد کے مکین فلسطینی مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے داخلے اور یہودیوں بستیوں کی جانب جانے پر عاید پابندیوں کے خلاف مظاہرہ کررہے تھے۔فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ چودہ سالہ عروہ حماد سر میں گولی لگنے سے شہید ہوا ہے۔

دوسری جانب صہیونی فوج کے ایک ترجمان نے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی مظاہرین نے فوجیوں پر پتھراؤ کیا تھا اور ان پر پیٹرول بموں سے حملے کی کوشش کی تھی۔انھیں پسپا کرنے کے لیے فائرنگ کی گئی ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج فائرنگ کے اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی۔

غرب اردن کے دوسرے علاقوں میں بھی نماز جمعہ کے بعد قابض صہیونی فوج کی چیرہ دستیوں اور انتہا پسند یہودیوں کی پولیس کی معیت میں مسجد الاقصیٰ میں داخلے کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں اور ان کے دوران صہیونی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد معمولی زخمی ہوگئے ہیں۔

یہودی اپنے ایک مذہبی تیوہار کے سلسلے میں جوق درجوق مسجد الاقصیٰ کا رُخ کررہے ہیں۔ان کے علاوہ انتہا پسند یہودی آبادکاروں کو مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے علاقوں میں پُراسرار طریقے سے جائیدادیں خرید کر آباد کیا جارہا ہے جس پر اس مقدس شہر میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔فلسطینی مسلسل اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اسرائیلی اس طرح مقبوضہ بیت المقدس میں آبادی کا توازن اور اس کی ہئیت تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں تا کہ وہ اس پر اپنا دائمی دارالحکومت ہونے کا حق جتلا سکیں۔

گذشتہ بدھ کو ایک فلسطینی ڈرائیور نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک ریلوے اسٹاپ پر کھڑے راہ گیروں پر اپنی کار چڑھا دی تھی جس کے نتیجے میں ایک یہودی بچہ ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوگئے تھے۔پولیس نے کہا تھا کہ ڈرائیور نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا اور اس کو گولی مار کر موت سے ہم کنار کردیا تھا۔تاہم واقعہ کی ویڈیو سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کار ڈرائیور سے بے قابو ہوکر اسٹاپ پر کھڑے لوگوں پر جا چڑھی تھی۔

اس واقعہ سے قبل سلواد کے شمال میں واقع ایک اور گاؤں میں ایک یہودی ڈرائیور نے ایک پانچ سالہ فلسطینی بچی انس شوکت کو اپنی کار کے نیچے کچل کر شہید کردیا تھا۔اس بچی کی اندوہناک موت کے خلاف فلسطینیوں نے مظاہرہ کیا تھا لیکن اسرائیلی تحقیقات کاروں نے واقعہ کو حادثہ قرار دے دیا تھا اور اس کے ذمے دار ڈرائیور کو گرفتار نہیں کیا تھا۔

واضح رہے کہ غرب اردن کے شہروں اور دیہات میں یہودی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے درمیان غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی مسلط کردہ پچاس روزہ جنگ کے خاتمے کے بعد سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔اس جنگ میں دوہزار دوسو سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے تھے اور ستر سے زیادہ یہودی مارے گئے تھے۔ان میں زیادہ تر صہیونی فوجی تھے جو فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے تھے۔