.

اسرئیل: فلسطینیوں کے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے پر پابندی عاید

سینکڑوں فلسطینیوں کے بے روزگار ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مغربی علاقے میں چلنے والی بسوں پر فلسطینیوں کا سوار ہونا ممنوع قرار دے دیا ہے۔ اس پابندی سے روزانہ سینکڑوں فلسطینی متاثر ہوں گے۔ پابندی ماہ نومبر کے آغاز کے ساتھ ہی نافذالعمل ہو جائے گی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کی اس امتیازی پابندی کو انسانی حقوق کی ایک اور خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ واضح رہے ہر روز سینکڑوں فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے سے اسرائیل میں محنت مزدوری کے لیے جاتے ہیں۔

زیادہ تر فلسطینی اسرائیل کے تعمیراتی منصوبوں میں مزدوری کے لیے جاتے ہیں، ان فلسطینیوں کوایک ہی مخصوص کردہ راہداری سے آنے جانے کی اجازت دی گئی تھی اب اس پابندی کے بعد یہ اجازت بھی ختم سمجھی جائے گی۔

اس سے سینکڑوں فلسطینیوں کے محنت مزدوری کا حق بھی چھین لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ کیونکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں مزدوری کے مواقع فراہم نہیں ہیں۔

فلسطینیوں کو اسرائیلی حکام نے اس امر کا پہلے ہی پابند بنا رکھا تھا کہ وہ جس بس پر صبح کے وقت سوار ہوں گے اسی بس سے واپسی کا سفر کریں گے۔

لیکن اب اس اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون نے فلسطینیوں کو پہلے سے دیے گئے حق سے بھی محروم کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ اسرائیلی اخبار ہیریٹز کے مطابق اب فلسطینی پبلک ٹرانسپورٹ بھی استعمال نہیں کر سکیں گے۔

تاہم اسرائیلی وزیر دفاع کی طرف سے عاید کی گئی اس نئی پابندی پر بات کرنے کے لیے ان سے رابطے کی کوشش کی گئی تو وہ دستیاب نہ ہوئے۔

اخبار کے مطابق دوسرے ملکوں سے لاکر بسائے گئے یہودی آباد کار کافی عرصے سے فلسطینیوں کے اپنے ساتھ سفر کرنے کا سلسلہ روکنے کے لیے مطالبہ کر رہے تھے۔ اس کی وجہ وہ فلسطینیوں سے اپنے خوفزدہ رہتے تھے، کہ وہ ان سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

اس سے پہلے اخبار کے مطابق اسرائیلی فوج دوران سفر فلسطینیوں سے ایسے کسی خطرے کی موجودگی سے انکاری رہی ہے۔ کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ پر یہ سفر سکیورٹی چیکنگ اور سرکاری طور پر جاری کیے گئے اجازت ناموں کی بنیاد پر ہوتا تھا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے ''بیتسیلیم '' نے اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون کے اس اعلان پر کڑی تنقید کی ہے اور اسے نسلی امتیاز پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے۔

پچھلے سال اس انسانی حقوق گروپ نے انہی بنیادوں پر فلسطینیوں کے لیے الگ بسیں مخصوص کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی تھی۔ گروپ کے مطابق یہ سرکاری طور پر نسلی پرستی کی سر پرستی ہے۔