.

اسرائیلی مظالم، امریکا مداخلت کرے: محمود عباس

اقوام متحدہ سے فلسطینیوں کی شہادتوں کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں کشیدگی بڑھانے کے اقدامات کی طرف امریکا کو متوجہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کو ایسے اقدامات سے روکنے کے لیے مداخلت کرے۔

صدر محمود عباس نے یہ توجہ امریکا کو ہنگامی بنیاد پر لکھے گئے خط میں دلائی ہے۔ تاکہ اوباما انتظامیہ اس معاملے میں مداخلت کر کے حالات کو سنگین تر ہونے سے روکنے میں کردار ادا کرے۔

واضح رہے اسرائیل نے غزہ میں پچاس روزہ جنگ کے بعد مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔

اب اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے ان کے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے پر بھی پابندی عاید کر دی ہے اور مسلمانوں کو نماز کے لیے مسجد الاقصیٰ میں جانے سے روکا جارہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان متعدد مرتبہ جھڑیں ہوچکی ہیں اور مختلف واقعات میں اسرائیلی فوج متعدد فلسطینیوں کی جان بھی لے چکی ہے۔

اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کو مستقل داخلے کے لیے حالات ایسے بنادے کہ فلسطینی احتجاج بھی نہ کر سکیں۔ اس وجہ سے مشرقی یروشلم میں آیندہ دنوں فلسطینی عوام پر اسرائیلی مظالم بڑھانے کی تیاری ہے۔

اسرائیل کے حالیہ غیر قانونی اور متجاوز اقدامات کی وجہ سے اتوار کے روز بھی علاقے میں کشیدگی کا ماحول رہا۔ سینکڑوں فلسطینیوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے سلوان میں حالیہ دنوں میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی چیرہ دستیوں کے خلاف احتجاجی مارچ کیا اور ایک علامتی جنازے کا جلوس نکالا۔

اسی دوران فلسطینی حکام نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ غرب اردن میں 2014 کے دوران آٹھ فلسطینی نوجوانوں کی شہادت کے حوالے سے غیر جانبدارنہ کمیشن سے تحقیقات کرائی جائیں۔

تازہ شہادت امریکی شہریت کے حامل نوجوان فلسطینی کی ہوئی ہے۔ اسے غرب اردن کے گاؤں سلواد میں جمعہ کی شام اسرائیلی فوج نے شہید کیا تھا۔

تنظیم آزادی فلسطین کی رہ نما حنان اشراوی نے ایک بیان میں اقوام متحدہ، یورپی یونین اور امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں پر فائرنگ کے معمول کا فوری نوٹس لیا جائے ۔''