.

عسکریت پسندوں سے جھڑپ، افسر سمیت چار لبنانی فوجی ہلاک

حکام کا دھماکا خیز مواد سے بھری دو کاریں بھی پکڑنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں ایک افسر سمیت کم سے کم چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سرچ آپریشن کے دوران طرابلس میں السلام اسکول کے احاطے سے فوج نے بارودی مواد سے بھری دو کاریں اور کئی راکٹ بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس غیر معمولی دھماکا خیز مواد کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

العربیہ نیوز کے نامہ نگار نے بتایا کہ اتوار کو طرابلس میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں کئی عام شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ شمالی شہر التبانہ میں جامع مسجد حربا کے قریب ایک راکٹ حملے میں کم سے کم 10 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں زیادہ بچے بتائے جاتے ہیں۔ ان زخمیوں میں التبانہ شہر میں سرکاری ترجمان الشیخ خالد السید کا بیٹا بھی شامل ہے۔ بحنین شہر میں بھی عسکریت پسندوں کی جانب سے راکٹ حملے کی اطلاعات ہیں جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق لبنانی فوج نے التبانہ شہر میں اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن مزید وسیع کر دیا ہے۔ گذشتہ روز شہرمیں جنگجوئوں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ اس دوران ایک اسکول میں مورچہ زن عسکریت پسندوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ کارروائی میں متعدد عسکریت پسند گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ کئی دوسرے اسلحہ اور گولہ بارود چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں اتوار کو التبانہ شہر کے ایک سرکردہ عسکری کمانڈر فائز العموری کے اغواء کی بھی اطلاعات ہیں۔ العموری کو طرابلس میں عسکریت پسندوں کا اہم رہ نما سمجھا جاتا ہے۔ قبل ازیں ہفتے کی شام اسی علاقے سے ایک لبنانی فوجی بھی اغواء ہو گیا تھا جس کا کوئی پتا نہیں چل سکا ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق التبانہ شہر میں جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والا ایک بچہ علی الشیخ دم توڑ گیا ہے۔ اسے گذشتہ روز فوج اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران گولی لگنے کے بعد ایک سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

طرابلس میں فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ فوج عسکریت پسندوں کا تعاقب اور ان کے مراکز پر چھاپوں کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھے گی بلکہ اس میں وسعت لائی جا رہی ہے۔ المنیہ شہر کے مضافاتی علاقے بحنین میں سرچ آپریشن کے دوران بارود سے بھری دو کاریں قبضے میں لی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 50 بم اور بھاری مقدار میں گولہ بارود بھی پکڑا گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ کی صبح سے جاری آپریشن میں چھ فوجی، نو عسکریت پسند جبکہ دو عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

لبنانی فوج کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی شناخت نہیں ہو سکی اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کہ ان کاتعلق کس گروپ کے ساتھ ہے تاہم یہ طے ہے کہ ان کے رابطے شام میں سرگرم القاعدہ گروپ’’النصرہ فرنٹ‘‘ یا دولت اسلامی داعش کے ساتھ رہے ہیں۔