.

شام: گورنر ہاوس اور پولیس ہیڈ کوارٹرز پر مختصر قبضہ

النصرہ فرنٹ پر بعد ازاں گن شپ ہیلی کاپٹروں کا حملہ، درجنوں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے منسلک عسکری گروپ النصرہ فرنٹ نے اسد رجیم کے زیر کنٹرول شہر ادلب پر مختصر وقت کے لیے قبضہ کر لیا، عسکری گروپ نے درجنوں فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے، تاہم بعد ازاں اسد رجیم کی فوج نے جنگجووں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اور ان جنگجوں کا بھی جانی نقصان کیا ہے، دونوں طرف کے جانی نقصان کی حتمی اطلاعات کا ابھی انتظار ہے۔

تفصیلات کے مطابق ادلب پر اسد رجیم کا 2012ء سے سے کنٹرول جاری ہے ہے۔ شام کے اس شمال مغربی شہر پر سرکاری قبضے کے خلاف النصرہ فرنٹ نے پیر کے روز چاروں اطراف سے حملے کا آغاز کیا۔ جس کے نتیجے میں النصرہ فرنٹ نے بعض اہم سرکاری عمارتوں پر بھی کچھ دیر کے لیے قبضہ کر لیا۔ ان سرکاری عماارات میں گورنر کا دفتر اور پولیس ہیڈکوارٹرز شامل تھے۔

شام کے حالات کو مانیٹر کرنے والی آبزرویٹری کے مطابق یہ قبضہ شہر کے جنوبی حصے تک محدود رہا۔ عسکریت پسندوں نے چیک پوائنٹ پر حملہ کیا اور دیر کے لیے قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس دوران عسکریت پسندوں نے ایک ایسی پہاڑی چوٹی پر بھی قبضہ کر لیا جو سٹریٹیجی کے اعتبار سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ بعد ازاں سرکاری فوج نے گن شپ ہیلی کاپٹروں سے ان پر حملہ کر کے مبینہ طور پر درجنوں باغیوں کو ہلاک کر دیا۔

شام میں داعش کو امریکی جنگی جہاز ان دنوں اپنی کارروائیون کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ جبکہ امریکا شام کی آزاد فوج جسے شام کے اعتدال پسند باغی کنٹرول کرتے ہیں کو تربیت اور اسلحہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ باغی فوج ''ایف ایس اے'' ایک طرح سے بفر گروپ کے طور پر کام کرتی ہے۔ یہ مختلف باغی گروپوں کا مجموعہ ہے۔ اس کے مقابلے میں داعش میں کمان اور کنٹرول کا نطام زیادہ موثر ہے۔

شام میں خاانہ جنگی اب چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور دولاکھ شامی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ 30 لاکھ کے قریب اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔