.

اسرائیل: خبر رساں ادارے کا کیمرہ مین ربر بلٹ سے زخمی

پولیس کی براہ راست فائرنگ، کیمرہ مین فلسطینیوں کے مظاہرے پر مامور تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی بارڈر پولیس نے عالمی خبر رساں ادارے کے کیمرہ مین کو ربڑ کی گولی سے زخمی کر دیا۔ زخمی کیا گیا کیمرہ مین کئی دوسرے کیمرہ والوں کے ساتھ فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہرے کی کوریج کر رہا تھا۔

زخمی کیمرہ مین جس کی پسلی اور بازو پر سخت چوٹ آئی ہے نے بتایا وہ 14 سالہ فلسطینی بچے کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں شہادت کے بعد فلسطینیوں کی احتجاج کو کور کر رہا تھا کہ اسے اسرائیلی بارڈر پولیس اہلکار نے دس سے بارہ میٹر سے براہ راست نشانہ بنایا۔

کیمرہ مین مجید محمد کے مطابق اس واقعے سے پہلے اسے یا مظاہرہ کور کرنے والے کسی بھی دوسرے کیمرہ مین کو پولیس نے علاقے سے چلے جانے کے لیے نہیں کہا تھا۔

اس کے بقول ''اچانک پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی میرے پیچھے آکر رکی اوراس میں سے ایک اہلکار نے اتر کر ربر بلٹ سے براہ راست مجھے نشانہ بنایا۔ ''

اسرائیلی فوج اور پولیس صحافیوں سے عام طور پر ناراض رہتی ہے اور انہیں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی سے مختلف طریقوں سے روکنے کی سبیل پیدا کرتی ہے۔

غزہ پر حالیہ مسلط کردہ جنگ کے دوران بھی اسرائیل اور اسرائیلیوں کے لیے میڈیا ورکرز کی کوریج ناراضی کا باعث بنتی رہی ۔

اس وجہ سے بعض صحافیوں کی ذمہ داری تبدیل کرانے میں بھی اسرائیلی کامیاب رہے۔ ایسے واقعات امریکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ منسلک صحافیوں کے ساتھ بھی پیش آ چکے ہیں۔

تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنے کیمرہ مین مجیدی محمد کے اسرائیلی بارڈر پولیس کے ہاتھوں زخمی ہونے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی حکومت سے اس سلسلے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے حالات کو خراب کرنے کی سازش کے بارے میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس پہلے ہی امریکا اور اقوام متحدہ سے شکایت کر چکے ہیں