.

صدام کو موت کی سزا دینے والے جج کا مالکی پر مقدمہ

اپنے وقت کا فرعون عراقی رہنما قانون کے شکنجے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"تاریخ خود کو دہراتی ہے۔"دنیا اس اٹل حقیقت کی عملی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ خود کو ناگزیر سمجھنے والے بڑے بڑے فرعون صفت حکمران بھی آخر کار قانون کے شنکجے میں آتے اور اپنے کیے کی سزا پاتے ہیں۔

عراق کے سابق مطلق العنان مصلوب صدر صدام حسین اسی حقیقت کی تازہ مثالوں میں سے ایک ہیں۔ لیکن ان کے جانشین بننے والے ایک دوسرے ’مرد آہن‘ نوری کامل المالکی بھی نو سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ وہ اب بھی نائب صدر کے عہدے پر متمکن ہیں۔ اقتدار کے دنوں میں وہ بھی خود کو ’’خدا‘‘ سمجھتے رہے لیکن اب بالآخر ان کے لیے قانون کا شکنجہ تیار ہونے لگا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق مصلوب صدر صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنانے والے عراقی جج جسٹس منیر حداد نے سابق عراقی وزیر اعظم نوری المالکی اور ان کے کئی مقربین کے خلاف بھی ایک مقدمہ قائم کیا ہے۔

جرمنی میں قائم اہل تشیع کے نمائندہ نیوز ویب پورٹل’’العراق ٹائمز‘‘ نے نوری المالکی کے خلاف نئے مقدمہ کی تفصیلات جاری کی ہیں جن کے مطابق جسٹس منیر حداد کی جانب سے دائر مقدمہ سے قبل بھی نوری المالکی کے خلاف ایک اور مقدمہ زیر سماعت ہے۔ پہلا مقدمہ بصرہ کے سابق گورنر کی 29 ستمبر 2012ء کو نوری المالکی کے زیر کمان سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مبینہ ہلاکت پر المالکی اور ان کے دو ساتھیوں پر قائم کیا گیا ہے۔

خیال ہے کہ مقتول گورنر بصرہ محمد مصباح الوائلی کے اہل خانہ نے الگ سے بھی ایک مقدمہ قائم کیا گیا ہے اور اس میں بھی سابق وزیر اعظم نوری المالکی، دو کاروباری شخصیات محمد عبداللہ عویز الجبوری اور عصام الاسدی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ مقدمہ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کی ہدایت پر گورنر بصرہ مصباح الوائلی کو وزیر اعظم کے خصوصی سیکیورٹی سکواڈ نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق صدام حسین کو پھانسی کی سزا دینے والے جج منیر الحداد کی جانب سے ایک فوج داری عدالت میں نوری المالکی کے خلاف درخواست 26 اکتوبر 2014ء کو دائر کی گئی ہے۔ اس درخواست میں سنہ 2010ٗء میں اپنے ساتھ نوری المالکی کے آمرانہ اور معاندانہ برتائو کو بنیاد بنایا ہے اور کہا ہے کہ 23 مارچ 2010ء کو ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کاطع الرکابی نے انہیں عدالت جانے سے روکنے کی کوشش کی تھی اور خلاف ورزی پر جان سے مار دینے کی نہ صرف دھمکی دی گئی بلکہ مسلح اہلکار بھی دھمکانے کو بھیجے گئے تھے۔

جسٹس منیر کو قتل کی دھمکی

جسٹس منیر کا کہنا ہے کہ وزہر اعظم کی ہدایت پر ان کے پر قاتلانہ حملے کی کوشش کے گواہ بھی موجود ہیں۔ گواہوں میں خاص طور پر ایوان صدر کے سابق مشیر نعیم عبدالملک السھیل اور سپریم فوج داری عدالت کے چیئرمین ھیثم ظاھر موسیٰ شامل ہیں۔ جسٹس منیر کا کہنا ہے کہ الرکابی کی جانب سے مجھے کہا گیا کہ میں تین دن کے لیے عدالت جانے سے رک جائوں۔ میں نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو مجھے قتل کی دھمکی دی گئی۔ ایک فاضل جج کی حیثیت سے میں اپنے سیکیورٹی سکواڈ کے ہمراہ عدالت پہنچا تو وہاں پر ایک فوجی کیپٹن نے وزیر اعظم نوری المالکی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس دکھایا جس میں کہا گیا تھا کہ جسٹس منیر کو عدالت میں داخل ہونے سے روکا جائے اور اگر وہ اس کے باوجود عدالت میں جانے کی کوشش کریں تو انہیں ان کے سیکیورٹی عملے سمیت قتل کر دیا جائے۔

اس پر میں نے میجر جنرل جواد سے رابطہ کرکے انہیں بتایا۔ جنرل جواد نے جواب دیا کہ ان کے پاس بھی وزیر اعظم کی جانب سے یہ ہدایات پہنچی ہیں کہ اگر جسٹس منیر حداد اپنی مرضی کرتے ہوئے عدالت جانے کی کوشش کرے تو اسے قتل کر دیا جائے۔ جسٹس منیر نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سربراہ حکومت کی حیثیت سے وزیر اعظم نوری المالکی ایک جج کو بغیر کسی جرم کے سر عام قتل کرنے کے احکامات بجائے خود سنگین جرم ہے اور عدالت اس کی مکمل تحقیقات کرے۔ مقدمہ میں دو اہم نکات بیان کیے گئے ہیں۔

اول یہ کہ وزیر اعظم اور ان کے حکومتی عملے کا مجھ پر عدالت نہ جانے کے لیے دبائو ڈالنا عدالتی امور میں کھلی مداخلت تھی اور دوم یہ کہ ایک ایسے جج کو قتل کرنے کی کھلی دھمکی دینا جس نے عراق کی خدمت انجام دی کس قانون کی رو سے درست تھا۔ کیا مجھے قتل کی دھمکی دینا نوری المالکی اور ان کے مصاحبین کا اقدام قتل نہیں تھا؟۔

المالکی کی گرفتاری کا مطالبہ

درخواست گذار جسٹس منیر حداد نے سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف دائر درخواست میں وزیر اعظم نوری المالکی، ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری کاطع الرکابی، میجر جنرل جواد اور ایک کیپٹن کی فوری گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جسٹس منیر نے اپنی درخواست میں نعیم عبدالملک سھیل، ھیثم ظاھر اور سارجنٹ عدی الشمری کو اپنے مقدمہ میں گواہ نامزد کیا ہے۔