.

مصری فوج کا غزہ سے متصل سرحد خالی کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج نے فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی سے متصل سرحد پر مقیم 250 خاندانوں کو فوری طور پر گھر خالی کرنے اور دوسرے مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے تاکہ سرحد کے آر پار آمد و رفت کے لیے بنائی گئی سرنگوں اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے نیا آپریشن شروع کیا جا سکے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کے زیر انتظام رفح سٹی کونسل کے چیئرمین میجر جنرل محمد السعدنی نے میڈیا کو بتایا کہ غزہ کی سرحد پر مقیم اڑھائی سو خاندانوں کو دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے تا کہ سرحد پر عسکریت پسندوں کی آمد ورفت روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔

میجر جنرل السعدنی نے رفح کے مکینوں سے ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ سرحد پر 300 میٹر کے علاقے کو خالی کرنے کی تیاری شروع کی گئی ہے۔ نقل مکانی کرنے والے ہر خاندان کو ماہانہ 300 مصری پائونڈز تین ماہ تک معاوضہ ادا کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مصر کی جانب واقع رفح شہر کے دسیوں خاندانوں نے مکانات خالی کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی ہے جبکہ 120خاندانوں کی جانب سے معاوضوں کے بدلے میں متبادل مقامات پر منتقلی کے لیے حامی بھری ہے۔

رفح کے ایک سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ فوج غزہ کی سرحد پر بنائے گئے مکانات 300 میٹر دور منتقل کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں شہریوں سے بات چیت جاری ہے اور ہر شہری کو اس کے مکان کی ایک میٹر جگہ کے عوض 1200 پائونڈز ادا کیے جائیں گے۔ پہلے مرحلے پر 300 میٹر تک اور دوسرے مرحلے میں سرحد سے 500 میٹر تک جگہ خالی کرائی جائے گی۔

سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ مقامی شہریوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد متبال مقامات کی طرف نکل جائیں تاکہ غزہ کی سرحد پر بنائی گئی سرنگوں کے مکمل خاتمے کے لیے اراضی کو خالی کیا جا سکے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کے روز رفح شہر کے قریب جزیرہ سیناء میں مسلح دہشت گردوں نے پے درپے حملے کر کے کم سے کم تیس مصری فوجی ہلاک کر دیے تھے۔ واقعے کے بعد جزیرہ سینا کے بعض علاقوں میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔