.

اسرائیلی وزیراعظم کو بزدل یا چوزہ نہیں کہا: امریکا

ایسے تبصرے مناسب نہیں، ان کا ردعمل منفی ہوتا ہے: امریکی ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکام نے اس امر کو تسلیم کرنے سے انکار کی کوشش کی ہے کہ امریکی حکام میں شامل کوئِی ذمہ دار اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو بزدل قرار دیتا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے معروف صحافی جیفری گولڈ برگ کی شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ پر اسرائیل کی طرف سے سخت ناپسندیدگی سامنے آنے کے بعد امریکا کی قومی سلامتی کے ترجمان نے کہا '' بلاشبہ یہ امریکی انتظامیہ کا نکتہ نظر نہیں ہے، ہمارے خیال میں اس طرح کے تبصرے مناسب نہیں ہیں اور کا منفی ردعمل ہوتا ہے۔''

امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزان رائس نے بھی دو طرفہ تعلقات میں کمزوری کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے '' صدر اوباما نے اسرائیل کے ساتھ شراکت میں گرم جوشی پیدا کی ہے اور دونوں ملکوں کے رہنما ایک دوسرے سے باقاعدگی سے مشاورت میں رہتے ہیں۔' اس لیے امریکا اسرائیل تعلقات کسی قسم کے بحران کی زد میں نہیں ہیں۔''

سلامتی کی مشیر کے مطابق '' حقیقت یہ ہے کی دو طرفہ تعلقات مختلف شعبوں میں ماضی کے مقابلے میں بھی زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔''

صحافی جیفری گولڈ برگ نے اپنی اٹلانٹک میگزین میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک امریکی ذمہ دار کے حوالے سے بنجمن نیتن یاہو کو چوزہ بہ معنی بزدل اور ڈرپوک کہا ہے۔ امریکی ذمہ دار نے اس مذکوہ صحافی سے کہا تھا '' یاہو کو امن سے زیادہ اپنے سیاسی مفادات عزیز ہیں۔''

واضح رہے پچھلے دنوں اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون کے امریکی وزیر خارجہ کے بارے میں این ریمارکس کہ '' وہ جنونی اور جذباتی ہے '' پر امریکا نے بھی سخت برا مانا تھا۔ اس وجہ سے اسرائیلی وزیر دفاع کو حالیہ دورہ امریکا کے دوران رد عمل بھی سہنا پڑا ہے۔

امریکا امن عمل پر زور دیتا ہے جبکہ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مزد یہودیوں کی تعمیرات کرتے ہوئے امن عمل کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس صورتحال پر اسرائیل کو امریکا ہی نہیں کئی مغربی ممالک کے ردعمل کا بھی سامنا ہے۔

جیفری گولڈ برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلی امریکی حکام اسرائیل کے ان یکطرفہ اور متجاوز منصوبوں پر آگ بگولہ ہیں اور دوطرفہ تعلقات سخت بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا اس حوالے سے موقف ہے کہ انہیں صرف اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی ریاست کے مفادات کا دفاع کرتا ہوں۔''

امریکی وائٹ ہاوس امریکا میں نیتن یاہو کے خلاف شروع ہونے والی حالیہ تنقید سے خود کو الگ ظاہر کرتا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان جین پاسکی نے بھی اسی ہفتے میں اسرائیل کے مشرقی یروشلم میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے نئے منصوبے پر تنقید کرنے کے باوجود امریکا اسرائیل تعلقات کے مضبوط تر رہنے کا کہا تھا۔