.

اسرائیل : مسجد الاقصیٰ کو دوبارہ کھولنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے مسجد الاقصیٰ کے احاطے کو جمعرات کے روز دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل نے بدھ کی شب ایک انتہا پسند یہودی آبادکار پر فائرنگ کے واقعہ کے بعد مسجد الاقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے بند کردیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے ایک فلسطینی معتز حجازی کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔اس پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ اس نے یہودی آباد کار کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس کے بعد اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔اسرائیل نے قبل ازیں کہا تھا کہ مسجد الاقصیٰ کو عارضی طور پر بند کیا جارہا ہے اور اس کا مقصد کشیدہ صورت حال کو ٹھنڈا کرنا تھا۔

اسرائیلی اعلان سے چندے قبل ہی امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین سکئی نے اسرائیل پر زوردیا تھا کہ وہ تمام عبادت گزاروں کے لیے مسجد کے دروازے کھول دے۔

مصر کی تاریخی جامعہ الازہر نے مسجد الاقصیٰ کی بندش کو جابرانہ اقدام قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے مذہبی تنازعات میں اضافہ ہوگا۔مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں جامعہ الازہر نے مسلمانوں اور عالمی برادری پر زوردیا تھا کہ وہ اس ظالمانہ اقدام کو رکوانے کے لیے آگے بڑھے۔

اردن نے بھی مسجد الاقصیٰ کے دروازوں کی بندش اور مسلمانوں کو وہاں عبادت کے لیے داخل ہونے سے روکنے کی مذمت کی تھی۔اردن کے اسلامی امور کے وزیر حائل داؤد نے ایک بیان میں عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ اسرائیل پر دہشت گردانہ ناکا بندی کو ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈالے۔

انھوں نے کہا کہ قابض حکام کی جانب سے یہ ایک بہت خطرناک اشتعال انگیزی اور ریاستی دہشت گردی ہے۔اس کو نا تو ہم قبول کرتے ہیں اور نہ اس پر خاموش رہ سکتے ہیں۔فلسطینی صدر محمود عباس نے مسجد الاقصیٰ کی بندش کو اعلان جنگ قرار دیا تھا۔