.

داعش اور صومالی عسکری گروپ الشباب کے اتحاد کا خطرہ

ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہو گا: شیخ عبداللہ بن زاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش کے عسکریت پسندوں نے صومالیہ کے عسکری گروپ الشباب کے ساتھ مل کر مشترکہ کارروائیاں کرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ انکشاف متحدہ عرب امارات کے اعلی سفارتکاروں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔

بتایا گیا ہے اس نئے خطرے کے تدارک کے لیے کافی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے داعش اس وقت عراق اور شام کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے اور اس کی عسکری استعداد میں آئے روز اضافے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

داعش اور افریقی ملکوں میں کارروائیوں سے شہرت پانے والی الشباب میں کئی دوسری مشترک چیزوں کے علاوہ القاعدہ سے منسلک ہونا بھی رہا ہے۔ دونوں کی کارروائیوں کے انداز میں بھی کافی مماثلت پائی جاتی ہے ، دونوں کار بم دھماکہوں اور خود کش حملوں کا بھی سہارا لیتی ہیں۔

متحدہ امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے اس بارے میں کہا یہ دونوں عسکری گروپ اس وقت الگ الگ کارروائیاں کرتے ہیں لیکن اسے تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ '' داعش کے حوالے سے ہمیں کن خطرات کا سامنا ہے اور دونوں کے اتحاد کی صورت میں کیا حالات بن سکتے ہیں۔ وہ صومالیہ کے حوالے سے منقدہ ایک کانفرنس میں افتتاحی خطاب کر رہے تھے۔

شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا ''میرے خیال میں ہمیں اس سوال کا خود سے جواب تلاش کرنا چاہیے، کہ اس ممکنہ صورت حال کے لیے بطور ملک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ہم کس قدر تیار ہیں۔ ''

شیخ عبداللہ بن زاید تاہم اپنی تقریر کے دوران اس حوالے سے کسی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر کوئی متعین بات نہیں کی ہے۔ البتہ اس موقع پر یہ بات محسوس کی گئی کہ الشباب القاعدہ کے بجائے داعش کے ساتھ وابستگی اختیار کر سکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات سات ریاستوں پر مشتمل امریکا اور مغربی ممالک کا خیلجی اتحادی ہے ۔ متحدہ عرب امارات میں صومالیہ کے شہری معقول تعداد میں موجود ہیں۔

متحدہ عرب امارات شام میں امریکی فضائی کرروائیوں کا بھی حصہ ہے۔ جبکہ دوسری جانب الشباب نے حالیہ مہینوں میں اپنے کمانڈر کی ہلاکت کے بعد نیا سربراہ احمد عمر کو مقرر کیا ہے۔