.

داعش کی اکلوتی یہودن جنگجو شامی محاذ جنگ پر

نامِ ’’محمد‘‘ سے الرجک اسرائیل سخت پریشان ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں سرگرم طاقتور شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ میں ویسے تو دنیا بھر سے مسلمان عسکریت پسند بڑی تعداد میں لڑ رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان تنظیم میں شمولیت کے لیے اپنے اپنے ملکوں سے روانہ ہو چکے ہیں اور کئی روانگی کے لیے پرتول رہے ہیں۔

اسی اثناء میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ایک چونکا دینے والی خبر دی ہے کہ فرانسیسی شہریت رکھنے والی ایک یہودی دوشیزہ بھی داعش کے پرچم تلے شام کے محاذ جنگ میں شریک ہے۔ وہ نہ صرف اپنے مذہب پر قائم ہے مگر پرتشدد خیالات رکھنے کے باوجود داعش کے لیے بھی قابل قبول ہے۔

اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 'چینل 2' کی رپورٹ کے مطابق داعش میں شامل ہونے والی یہودی دوشیزہ کی شناخت سارا کے نام سے ہوئی ہے جس کی عمر اس وقت فقط سترہ سال ہے۔ وہ فرانس کی ان 100 خواتین میں شامل ہے جن کے بارے میں فرانسیسی پولیس کا دعویٰ ہے کہ وہ داعش میں شامل ہو چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فرانسیسی پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وہ شام پہچنے والی یہودی دوشیزہ کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں۔ فرانس میں موجودگی کے دوران اس کی نقل وحرکت کے بارے میں خفیہ کیمروں کی مدد سے کچھ معلومات ملی ہیں۔ جن سے اس کے لباس کو بدلنے، چہرے سمیت پورے جسم کو ایک مکمل برقع سے ڈھانپنے اور پھر شام کی طرف کوچ کر جانے کی فوٹیج بھی مل چکی ہے۔

ایک یہودی لڑکی کا داعش میں شامل ہونا [چاہے وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتی ہو] اسرائیل کے لیے سخت پریشانی اور تشویش کا موجب بنا ہے۔ اسرائیلی ٹی وی نے تو یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ شدت پسند مذہبی خیالات رکھنے والی فرانسیسی دوشیزہ پیرس میں اپنے والد کے ایک کاروباری مرکز کو بھی بم دھماکوں سے اڑانے کا 'عزم' رکھتی ہے۔

اسرائیل کے ایک نیوز ویب پورٹل ’’دی ٹائمز آف اسرائیل‘‘ نے بھی اس حوالے سے ایک مختصر رپورٹ دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہودی دوشیزہ نے پہلے اپنے اہل خانہ سے شام میں داعش میں شمولیت کے لیے سفر کی اجازت اور معاونت بھی مانگی تھی۔ گھر سے اجازت نہ ملنے کے باوجود وہ انٹرنیٹ پر داعش کی ترغیبات سے اس قدر متاثر تھی کہ چوری چھپے ترکی کے راستے شام جا پہنچی ہے۔

فرانسیسی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ داعش میں شامل ہونے والی یہودی لڑکی خود ایک دیندار گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ انٹرنیٹ پر داعش کی تبلیغ سے متاثر ہوئی جس کے بعد اس نے شام جانے کا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ یورپی ملکوں میں پچھلے کچھ عرصے کے دوران مسلمان نوجوانوں کی بڑی تعداد کے داعش میں شمولیت کے لیے عراق اور شام چلے جانے کے باعث ایک بھونچال کی کیفیت ہے اور ان ملکوں کی حکومتیں داعش میں شامل ہونے والے جنگجوئوں کی وجہ سے سخت پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ داعش میں شامل ہونے والے انتہا پسند عناصر ان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کی انتہا پسند گروپ میں شمولیت سے دہشت گردانہ نظریات کو بھی تقویت مل رہی ہے۔

اسرائیل کے لیے داعش کی پریشانی کی وجہ ذرا مختلف ہے۔ وہ یہ کہ داعش، اسرائیل کے پڑوس میں بر سر جنگ ہے۔ داعشی جنگجو بغیر ویزے کے اسرائیل میں داخل ہو سکتے ہیں۔