.

عراق: داعش مخالف سردار کی ہلاکت سے متعلق متضاد خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

باوثوق ذرائع نے 'العربیہ' کو بتایا ہے کہ داعش نے مغربی عراق میں اپنے مخالف قبیلے البونمر کے سردار حاتم الکعود کو اغوا کے بعد قتل کر دیا ہے، تاہم قبیلے کے اہم رہنما اور قبائلی سربراہ کے قریبی عزیز جلال الکعود نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ الانبار میں قبیلے کے سردار کا قتل نہیں ہوا۔

عراق میں مختلف قبائل کی داعش کے خلاف جھڑپوں کے تناظر میں بعض قبائلی سردار یہ گلہ کرتے دیکھے گئے ہیں کہ حکومت ملک میں داعش جیسی انتہا پسند تنظیم کا مقابلہ کرنے کے لئے انہیں مسلح نہیں کر رہی ہے۔

صلاح الدین گورنری سے عراقی پارلیمنٹ کے رکن الشیخ شعلان الکریم نے العربیہ کے بردار ہیڈ لائنز چینل 'الحدث' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'داعش' کے مسلح افراد نے البونمر قبیلے کے سربراہ حاتم عبدالرزاق الکعود کو ان کے بھائی اور اہل خانہ کے ہمراہ اغوا کیا۔

اس سے پہلے البونمر قبیلے کے ایک سردار نعیم الکعود نے بتایا کہ ان کے قبیلے کے متعدد افراد پیدل طویل سفر کرتے ہوئے صحرا کی جانب چلے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'داعش' نے قبیلے کے 40 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

الشیخ نعیم الکعود نے قبیلے ہی کے بعض اہم رہنماوں پر الزام عاید کیا ہے کہ انہوں نے البونمر قبیلے کا دھڑن تختہ اور اہل قبیلہ کی اجتماعی بیدخلی کے منصوبے میں ساز باز سے کام لیا ہے۔

انہی ذرائع نے 'الحدث' چینل کو بتایا کہ شمالی الرمادی کے بو علی الجاسم صحرائی علاقے میں داعش کے ہاتھوں مارے جانے والے البونمر قبیلے کے 200 افراد کی اجتماعی قبریں ملی ہیں۔ داعش کے ہاتھوں مارے جانے والے ان افراد کو صحراء کی جانب لیجایا گیا۔

نیز اسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایسے افراد کی نعشیں بھی ملی ہیں کہ جو انتہا پسندوں اور اپنے ہم قبیلہ افراد کے درمیان تصادم میں تیزی کے بعد صحرا کی طرف نقل مکانی کر گئے تھے۔