.

عراق: داعش نے 46 قبائلیوں کو قتل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے مغربی صوبے الانبار کے شہر ہیت میں دولت اسلامیہ (داعش) کے جنگجوؤں نے اپنے مخالف قبیلے کے چھیالیس افراد کو فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے اور پانچ سو خاندانوں کا محاصرہ کر لیا ہے۔

الانبار سے العربیہ نیوز چینل کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ تین روز سے صوبے کے صحرا میں دربدر ہونے والے خاندانوں کا محاصرہ کررکھا ہے اور اب اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ان کا اجتماعی قتل عام کیا جاسکتا ہے۔

سکیورٹی اور قبائلی ذرائع نے کہا ہے کہ داعش نے اپنے مخالف ابونمر قبیلے کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے اور انھوں نے صوبائی دارالحکومت رمادی کے نزدیک اس قبیلے کے پینتیس نوجوانوں کو قتل کردیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے اس قبیلے کے سردار خاندان آل کود کے مکانوں اور جائیدادوں کا بھی گھیراؤ کرلیا ہے۔

قبل ازیں فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے اطلاع دی تھی کہ جنگجوؤں نے اس قبیلے کے چالیس ارکان کو قتل کردیا ہے۔اس قبیلے کا جرم یہ ہے کہ اس نے الانبار میں داعش کے خلاف جنگ لڑی ہے۔پولیس کے ایک کرنل اور جہادیوں کی مخالف سنی ملیشیا صحوہ کے ایک لیڈر نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران عراق کے شمالی اور شمال مغربی صوبوں میں داعش کے مقابلے میں عراقی سکیورٹی فورسز کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اب اگر الانبار میں ان کی مزاحمت ختم ہوجاتی ہے تو پھر پورے صوبے میں اس جنگجو گروپ کا کنٹرول ہوجائے گا۔

داعش نے ابھی تک الانبار اور عراق کے دوسرے علاقوں میں اجتماعی ہلاکتوں کے واقعات کی کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ داعش نے جون کے بعد 560 اور 770 کے درمیان افراد کو سزا دینے کے لیے اجتماعی طور پر گولیاں مار کر قتل کردیا ہے اور ان میں زیادہ تر عراقی فوجی تھے۔

ادھر شام میں بھی داعش نے اپنے خلاف لڑنے والے ایک قبیلے کے سیکڑوں افراد کو قتل کردیا ہے۔اس وقت امریکا اوراس کے اتحادی کے ممالک کے لڑاکا طیارے شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں اور برسرزمین عراقی سکیورٹی فورسز ،شیعہ ملیشیائیں اور بعض سنی قبائل داعش کے خلاف جنگ آزما ہیں لیکن انھیں بہت تھوڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے اور وہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے میں ناکام رہے ہیں۔