.

لبنانی پارلیمنٹ 14ویں مرتبہ بھی صدر کے انتخاب میں ناکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں مختلف سیاسی دھڑوں کے مابین صدر مملکت کے چنائو کے بارے میں کسی قسم کی ہم آہنگی اور عدم اتفاق کے نتیجے میں پارلیمنٹ کی جانب سے صدر کے چنائو کی چودہویں کوشش بھی ناکام ہو گئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’’اے ایف پی‘‘ کے مطابق بدھ کے روز لبنانی پارلیمنٹ کےاجلاس میں صدر کے چنائو کے لیے رائے شماری کی گئی تو حسب سابق کورم نامکمل نکلا جس کے باعث صدر کے انتخاب کا عمل نہ ہوسکا۔

خیال رہے کہ لبنان میں گذشتہ اپریل سےنئے صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ میں رائے شماری ہوتی چلی آ رہی ہے۔ ریاستی قانون کے تحت صدر کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کے ارکان کی دو تہائی اکثریت یعنی کل 128 میں سے 86 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنانی پارلیمنٹ چوں چوں کا مربہ بن چکی ہے، جہاں مغرب نواز، مغرب مخالف، شام میں صدر بشاالاسد کے حامی اور مخالف، سعودی عرب کے مخالفین اور اس کے حمایتی الگ الگ موقف رکھتے ہیں۔

اتحاد مارچ 14، شام میں صدر بشار الاسد کا مخالف سمجھا جاتا ہے جبکہ حزب اللہ کی تمام وفاداریاں صدر اسد کے ساتھ ہیں۔ سنی رہ نما سعد حریری کو سعودی عرب کا حمایت یافتہ سمجھا جاتا ہے۔ مسیحی رہ نما اور صدارتی امیدوار المارونی جعجع مغرب کے حامی ہیں۔

اتحاد مارچ 08 کو ایران اور شام کی حمایت حاصل ہے۔ پارلیمنٹ میں کسی ایک گروپ کو بھی فیصلہ کن اکثریت حاصل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر کے انتخاب میں مشکل درپیش آ رہی ہے۔

لبنانی میڈیا کے مطابق صدر کے چنائو کی اگلی تاریخ 19 نومبر جاری کی گئی ہے۔ اس کے بعد موجودہ پارلیمنٹ کی اپنی مدت بھی ختم ہو جائے گی۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بدھ کے روز لبنانی پارلیمنٹ میں صرف 52 ارکان حاضر ہوئے جس پر صدر کے چنائو کے لیے رائے شماری ملتوی کر دی گئی۔

لبنان میں جہاں ایک طرف بدترین سیاسی بحران چل رہا ہے اور ملک کا منتخب ایوان صدر مملکت کے چنائو میں مسلسل ناکام ہے وہیں دوسری جانب امن وامان کی صورت حال بھی ابترہے۔ پچھلے چار روز میں شمالی لبنان کے شورش زدہ شہر طرابلس میں مسلح شدت پسندوں سے جھڑپوں میں 11 فوجیوں اور پانچ عام شہریوں سمیت کم سے کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔