.

مسجد اقصیٰ کی بندش اسرائیل کا اعلان جنگ ہے"

اردن کی جانب سے بھی فیصلے کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکومت نے گذشتہ شب ایک سرکردہ یہودی شدت پسند مذہبی رہنما یہودا گلیک پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے واقعے کے بعد مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کا داخلہ بند کر دیا ہے جس پر فلسطین میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں مسلمان نمازیوں کے داخلے پر پابندی کے فیصلے کو فلسطینی قوم اور اسلامی مقدسات کے خلاف ’’اعلان جنگ‘‘ قرار دیا۔

نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ اسرائیل کے بیت المقدس کے شہریوں کے خلاف جاری جارحانہ اقدامات اور مسجد اقصیٰ کے بارے میں فیصلے کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہیں۔ ہم اسے مقدس مقامات، عالم عرب اور مسلم امہ کے خلاف کھلا اعلان جنگ سمجھتے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اردنی حکومت نے بھی قبلہ اول میں مسلمان نمازیوں کے داخلے پر پابندی کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق عمان حکومت نے جمعرات کو اسرائیلی حکام سے رابطہ کر کے مسجد اقصیٰ کی بندش پر شدید احتجاج کیا اور اسے بیس سال قبل طے پائے’’وادی عربہ‘‘ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

اردنی حکومت نے واضح کیا کہ بیت المقدس میں مقدس مقامات پر یہودی آباد کاروں کے حملے اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسجد اقصیٰ میں مسلمانون کے داخلے پر پابندی سے خطے میں مذہبی فرقہ واریت کی ایک بئی آگ بھڑک سکتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کی بندش کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بیت المقدس شہر میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ صہیونی حکومت کا کہنا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں صرف فلسطینیوں کو داخلے سے نہیں روکا گیا بلکہ یہودی آباد کاروں کو بھی وہاں پر عبادت کی غرض سے جانے سے منع کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب بیت المقدس میں ایک سرکردہ یہودی انتہا پسند ربی’’یہودا گلیک‘‘ پر قاتلانہ حملے کے بعد شہر میں سخت کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

جمعرات کو علی الصباح اسرائیلی پولیس نے القدس شہر کے تمام اہم مقامات پر سیکیورٹی سخت کرنے کے ساتھ فلسطینی شہریوں کے خلاف ایک نیا کریک ڈائون بھی شروع کیا ہے۔ صہیونی فوج نے آج صبح ایک فلسطینی نوجوان معتزالحازی کو اس کے گھر میں گھس کر گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا۔