.

مصر: مرسی نواز پریشر گروپ پر پابندی عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی حکومت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کے لیے تحریک چلانے والے ایک پریشر گروپ پر پابندی عاید کردی ہے۔

مصری وزیراعظم ابراہیم محلب نے جمعرات کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت قومی اتحاد برائے حمایت قانونی حاکمیت اور استرداد فوجی بغاوت کو توڑ دیا گیا ہے اور اس کے سیاسی بازو حریت پارٹی پر بھی پابندی عاید کردی گئی ہے۔انھوں نے یہ اقدام اس اتحاد کے خلاف ایک عدالتی فیصلے کے تحت کیا ہے۔

اس قومی اتحاد میں اخوان المسلمون کے حامی اور دوسرے گروپ شامل تھے اور اس کو گذشتہ سال جولائی میں تب آرمی چیف عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے ردعمل میں قائم کیا گیا تھا اور اس کے تحت ملک بھر میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں۔

مصری حکومت اس سے قبل عدالتی فیصلوں کے تحت ملک کی سے سب منظم اور قدیم جماعت اخوان المسلمون اور دوسرے حکومت مخالف گروپوں پر بھی پابندیاں عاید کرچکی ہے۔گذشتہ سوا ایک سال کے دوران مصر کی سکیورٹی فورسز نے اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا ہے اور ان میں سے سیکڑوں کو مختلف الزامات کے تحت عدالتوں کی جانب سے پھانسی اور قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔

مغرب کی حکومتیں مصر کی موجودہ حکومت کی ڈاکٹر مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے جابرانہ پالیسیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرچکی ہیں لیکن انھوں نے حکومت پر ایسا کوئی معنی خیز دباؤ نہیں ڈالا ہے جس سے کہ وہ سیاسی کارکنان کے خلاف سخت گیر اقدامات سے باز آجاتی۔تاہم اب ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کا زور کافی حد تک ٹوٹ چکا ہے اور اب اس تحریک میں پہلے جیسا دم خم نہیں رہا ہے۔